ملک اشرف:لاہور ہائیکورٹ میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور توانائی کے شعبے سے متعلق پالیسیوں کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس احمد ندیم ارشد نے سائلہ اشباء کامران کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں وفاقی حکومت، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) کو فریق بنایا گیا ہے۔
سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے لاء افسر نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا، جس پر عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بجلی پیدا نہ کرنے یا کارخانے بند ہونے کے باوجود کمپنیوں کو کھربوں روپے کی ادائیگیاں کی جا رہی ہیں، جو عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ استعمال نہ ہونے والی بجلی اور بند پاور پلانٹس کو 18 کھرب 10 ارب روپے ادا کیے گئے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ حکومت کو صرف اتنی بجلی کے عوض ادائیگی کرنے کا پابند بنایا جائے جتنی بجلی حقیقتاً صارفین تک پہنچائی جائے۔ درخواست میں یہ بھی مؤقف اپنایا گیا کہ مہنگی بجلی کے باعث صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور کروڑوں خاندان معاشی مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں۔
مزید برآں، مقامی کمپنیوں کو پاکستانی روپے کے بجائے ڈالر میں منافع دینے کے اقدام کو بھی چیلنج کیا گیا۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ روپے کے بدلے روپیہ اور ڈالر کے بدلے ڈالر کی ادائیگی کے فیصلوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔
درخواست میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ پارلیمنٹ کو بائی پاس کرکے فیصلے کرنے والے متعلقہ افسران کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیا جائے۔ عدالت کی جانب سے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کے حوالے سے محفوظ کیا گیا فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا۔