ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سزا نہیں اصلاح، مریم نواز کے تاریخ ساز اصلاحاتی فیصلے

وزیراعلیٰ مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ جیلوں کی صورتحال کو ذاتی طور پر دیکھ چکی ہیں، اس لیے جیلوں کے ہر پہلو سے خود کو منسلک محسوس کرتی ہیں

سزا نہیں اصلاح، مریم نواز کے تاریخ ساز اصلاحاتی فیصلے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

رائو دلشاد: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جیلوں کی کال کوٹھڑیوں کو حقیقی اصلاح گاہوں میں تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے جیل اصلاحات، قیدیوں کی فلاح اور اوور کراؤڈنگ کے خاتمے کے لیے جامع اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیرِ صدارت جیل اصلاحات سے متعلق اہم اجلاس میں جیلوں میں گنجائش کے بحران، قیدیوں کی سہولیات، سکیورٹی اور اصلاحی نظام سے متعلق تفصیلی پلان پیش کیا گیا۔ اجلاس میں ننکانہ صاحب جیل کا ویڈیو جائزہ بھی پیش کیا گیا، جبکہ اس کی تعمیر کے لیے 1.3 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے سمندری اور ننکانہ کی جیلوں کو ستمبر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ جیلوں میں اوور کراؤڈنگ کم کرنے کے لیے 27 نئی بیرکوں کی تعمیر تیزی سے جاری ہے، جبکہ چنیوٹ اور مری میں بھی نئی جیلوں پر کام جاری ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں جیلوں کی گنجائش 30 ہزار سے بڑھا کر 39 ہزار کر دی گئی ہے، تاہم اس وقت قیدیوں کی تعداد 68 سے 79 ہزار کے درمیان ہے۔

وزیراعلیٰ نے غریب قیدیوں کو لیگل ایڈ ایجنسی کے ذریعے مفت قانونی معاونت فراہم کرنے، پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے تحت جیل ہسپتالوں کی باقاعدہ انسپکشن، اور قیدیوں کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والی 30 جیل وینز کو ایئرکنڈیشنڈ بنانے کی ہدایت دی۔ ری ماڈل جیل وینز میں واش رومز اور کیمرہ اسکرینز بھی نصب کی جائیں گی۔

اجلاس میں قیدیوں کے لیے معیاری ہفتہ وار ڈائٹ پلان، مرد قیدیوں کے بخشی خانوں میں میٹرس فراہم کرنے، کھانے کی تیاری اور صفائی کے نظام کی سخت نگرانی، ذہنی صحت اور مجموعی ہیلتھ انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے سے متعلق اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ قیدی ویلفیئر اسٹورز کے قیام اور قیدیوں کے اہلِ خانہ کے لیے آرام دہ ویٹنگ شیڈز اور ٹرانسپورٹ کارٹس فعال کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی میں تین جدید خواتین جیلیں قائم کی جا رہی ہیں، جبکہ فیصل آباد اور بہاولپور کے جوینائل بروسٹل ہاؤسز میں بچوں کی تعلیم، ووکیشنل ٹریننگ، پلے ایریاز اور بہتر بیڈنگ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق لٹریسی پروگرام کے تحت 4,141 قیدی تعلیم حاصل کرنے کے لیے رجسٹرڈ ہیں، جبکہ اب تک 472 قیدی میٹرک، 367 انٹرمیڈیٹ اور 140 گریجویشن مکمل کر چکے ہیں۔ پنجاب کی 15 جیلوں میں مارکیٹ اورینٹڈ جیل انڈسٹری کامیابی سے چل رہی ہے، جہاں قیدی فرنیچر، قالین، ٹف ٹائلز، بیوٹی سوپ، فینائل، واشنگ پاؤڈر اور ایل ای ڈی لائٹس تیار کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قیدیوں کو موبائل فون، موٹرسائیکل اور ٹریکٹر ریپیئرنگ کی عملی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ جیلوں میں جدید رمیشن مینجمنٹ سسٹم اور مفت بائیومیٹرک ویریفکیشن کا نظام متعارف کرا دیا گیا ہے، جبکہ انٹیگریٹڈ کریمنل سسٹم کوآرڈینیشن کے تحت سکیورٹی مزید سخت کی گئی ہے۔ لاہور سمیت مختلف اضلاع کے 11 بخشی خانوں کو اپ گریڈ کیا جا چکا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ نے جوینائل اور کم عمر قیدیوں کی جیلوں کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ جیلوں کی صورتحال کو ذاتی طور پر دیکھ چکی ہیں، اس لیے جیلوں کے ہر پہلو سے خود کو منسلک محسوس کرتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پنجاب بھر کی جیلوں میں قیدیوں کے بنیادی انسانی وقار اور حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پنجاب کی تمام جیلوں میں قیدیوں کو آڈیو اور ویڈیو کال کی سہولت بھی فراہم کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب گزشتہ روز  وزیراعلی پنجاب مریم نواز  نے  جیل اصلاحات کانفرنس سے خطاب   کیا جس سے قبل مریم نواز نے پنجاب میں جیل اصلاحات سے متعلق ڈاکومنٹری  بھی چلوائی تھی۔

مریم نواز نے کہا میں یہاں اس فورم پر کو سیاسی بات نہیں کرنا چاہتی،میں نے خود سخت حالات میں جیل کاٹی ہے، میں نے جیل کاٹ کر جو دیکھا پھر ویسے اصلاحات کیں۔

وزیر اعلی مریم نواز  نے کہا مجھے اور والد نواز شریف کو ایک ساتھ قید رکھا گیا،میرے جیل کے کمرے میں واش روم اور سونے کی جگہ ساتھ تھی  جبکہ جیل میں جائے نماز رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صفائی ستھرائی کی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں تھیں،جیل میں میری شوگر ڈاون ہوئی تھی مدد کیلئے چلاتی رہی،کوئی میری آواز نہیں سنتا تھا اور  نہ کوئی مدد کیلئے آیا۔

مریم نواز نے تایا کہ ایک شیشے کی بوتل نظر آئی جس میں گڑ مکس کیا ہوا تھا،شوگر ڈاون ہونے کی وجہ سے میرا جسم کانپ رہا تھا،جب بوتل اٹھانے لگی تو ٹوٹ گئی گڑ اور شیشے کے ٹکڑے فرش پر بکھر گئے،فرش سے گڑ اٹھا کر میں نے کھایا تھا کیونکہ شوگر ڈاون تھی۔

مزید برآں، جب ہم قید تھے والدہ شدید بیمار ہوگئیں مگر ہمیں ملنے کی اجازت نہیں تھی،میری ماں کا جب انتقال ہوا میں اور والد قید میں تھے،آج میری ماں کی سالگرہ ہے انکی باتیں آج تک نہیں بھولتیں۔

مجھے اڈیالہ میں 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا گیا۔قید تنہائی کا ذہنی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے مجھے اندازہ ہے۔جیل میں جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے۔