ویب ٖڈیسک: یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی اور ان کی اہلیہ عروب جتوئی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف آن لائن جوئے کی پروموشن کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم ووٹو نے کی۔ عدالت نے ڈکی بھائی سمیت تمام ملزمان پر فردِ جرم عائد کرنے کے لیے 16 جنوری کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے تمام ملزمان کو چالان کی نقول فراہم کرتے ہوئے انہیں 16 جنوری کو فردِ جرم کے لیے طلب کر لیا۔ اس موقع پر یوٹیوبر ڈکی بھائی، ان کی اہلیہ اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران عدالت نے ڈکی بھائی سے استفسار کیا کہ ’’آپ کا بغیر اجازت کے یوٹیوب چینل پر وی لاگ کرنا غیر قانونی ہے‘‘۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ وی لاگنگ کے لیے باقاعدہ طور پر عدالت میں اجازت کی درخواست دائر کی جانی چاہیے تھی۔
اس پر ڈکی بھائی نے مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ سماعت پر انہوں نے بیانِ حلفی دیا تھا اور ان کے نزدیک اسی کو اجازت تصور کیا گیا۔ عدالت نے اس پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’آپ خود کو اجازت کیسے دے سکتے ہیں، اجازت صرف عدالت دیتی ہے‘‘۔ جج نے مزید کہا کہ ان کے نزدیک باقاعدہ درخواست دینی چاہیے تھی۔
عدالت نے ڈکی بھائی سے پوچھا کہ کیا وہ وی لاگنگ نہیں کرنا چاہتے، جس پر ڈکی بھائی کے وکیل نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ کس چیز کی اجازت لی جائے اور یہ کہ وہ اپنے چینل پر وی لاگ کر ہی نہیں رہے۔
اس پر عدالت نے واضح کیا کہ ڈکی بھائی کا یوٹیوب چینل مقدمے کا مال ہے اور این سی سی آئی اے (NCCIA) نے اسے ضبط کر رکھا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ وی لاگنگ کی جا سکتی ہے، لیکن ضبط شدہ چینل سے کسی قسم کی اپ لوڈنگ غیر قانونی ہوگی۔
واضح رہے کہ این سی سی آئی اے کی جانب سے ملزمان کے خلاف آن لائن جوئے کی پروموشن کے مقدمے کا چالان پہلے ہی عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے۔ اب کیس کی اگلی سماعت 16 جنوری کو فردِ جرم عائد کرنے کے مرحلے پر ہوگی۔