2020محکمہ ریلوے کے لیے سود مند سال ثابت نہ ہوا

2020محکمہ ریلوے کے لیے سود مند سال ثابت نہ ہوا

سعید احمد: سال 2020 دیگر محکموں کی طرح محکمہ ریلوے کے لیے بھی خوشگوار اور سود مند سال ثابت نہ ہوا، ریلوے ریکارڈ حادثات، آمدنی میں کمی، ٹرینوں میں گھنٹوں تاخیر اور کورونا وائرس کے باعث کارکردگی نہ دیکھا سکا، جنوری تا نومبر 2020 تک ریکارڈ 137 حادثات کے نتیجے میں 56 افراد جاں بحق ہوئے۔

 تفصیلات کے مطابق ریلوے حکام کی ناقص پالیسیاں اور کورونا وائرس کے اثرات، سال 2020 محکمہ ریلوے کے لیے بھی خوشگوار اور سود مند سال ثابت نہ ہو سکا، ریکارڈ حادثات، آمدنی میں کمی اور خالی ٹرینوں کی روانگی سے محکمہ اس سال بدترین کارکردگی پر آگیا۔

  لاہور ریلوے ہیڈکوارٹر کے اعدادوشمار کے مطابق جنوری تا نومبر 2020 میں کل 137 ٹرین حادثات رپورٹ ہوئے جن میں سے مال گاڑیوں کے پٹریوں سے اترنے کے سب سے زیادہ 40 حادثات رونما ہوئے، مسافر ٹرینوں کے 20، ان مینڈ لیول کراسنگ پر 19، نامعمول مقامات پر 35 حادثات جبکہ ٹرینوں میں آگ لگنے کے7واقعات رپورٹ ہوئے۔

 حادثات کے نتیجے میں 56 افراد جاں بحق اور 58 شدید زخمی ہوئے۔ حادثات کے نتیجے میں ریلوے کو انفراسٹرکچر کی تباہی کی مد میں 1کروڑ31لاکھ 46ہزار 3سو18 روپے کا نقصان ہوا۔ جبکہ مالی سال 2019.20 میں 45 ارب کی ریکارڈ حکومتی سبسڈی ریلوے خسارہ ختم نہ کرسکی، رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ 20 روز میں ریلوے کو 12 ارب 72 کروڑ کم آمدنی حاصل ہوئی۔

  کورونا وائرس کے باعث 56 روز تک ٹرین آپریشن کی بندش اقر بعد ازاں محدود ٹرین آپریشن سے بھی آمدنی پر گہرے اثرات رہے۔