منتخب اسمبلیوں میں پی ٹی آئی کا کوئی وجود نہیں جن ارکان کو پی ٹی آئی کا رکن تصور کیا جاتا رہا وہ آزاد ہیں؛ ہائی کورٹ نے ایک بار پھر اس فیصلے پر تصدیق کی مہر ثبت کر دی۔ پشاور ہائیکورٹ نے آزاد ارکان اسمبلی کو "پی ٹی آئی کےارکان اسمبلی" ماننے سے صاف انکار کر دیا ور ان ارکان اسمبلی کو آزادقرار دینےکے فیصلہ کے خلاف درخواست خارج کردی.
پشاور ہائی کورٹ میں سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے درخواست دائر کی تھی کہ "پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی" کو آزاد قرار دینےکا حکم منسوخ کیا جائے۔ آج پشاور ہائی کورٹ نے یہ درخواست خارج کردی۔
اس درخواست کے خارج ہونے کے بعد پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے بعد اسمبلی کا نیا الیکشن لڑنے سے پہلے پارلیمنٹ میں پارلیمانی پارٹی بننے کا امکان مکمل معدوم ہو گیا۔ پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی الیکشن کو الیکشن کمیشن نے اب تک تسلیم نہیں کیا، پی ٹی آئی کے کئی ارکان نے چمکنی پشاور میں کی گئی سرگرمی کو چیلنج کر رکھا ہے، یہ معاملہ ہنوز زیر سماعت ہے۔
درخواست کی سماعت جسٹس محمد نعیم انور اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل بینچ نےکی۔
علی امین گنڈا پور کی درخواست میں الیکشن رول 94 کو چیلنج کیا گیا تھا۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے "پی ٹی آئی کے ارکان" کو آزاد قرار دیا. اب الیکشن کمیشن بتائےکہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے یا نہیں۔
وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت کے روبرو پیش ہو کر ادارہ کا یہ مؤقف بتایا کہ مخصوص نشستوں پرپہلے پشاورہائی کورٹ کے 5 رکنی بینچ، پھر سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا۔ ان فیصلوں میں آزد منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کو آزاد تصور کیا گیا اور انہین پی ٹی آئی کے ارکان قرار دینے کو غلط کہا گیا کیونکہ پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کے حکم کے مطابق الیکشن لرنے کی اہل ہی نہیں تھی تو یہ پارلیمنٹ میں کیونکر موجود ہو سکتی تھی۔
وکیل مسلم لیگ ن کے وکیل بھی اس کیس مین پیش ہوئے، مسلم لیگ نون کے وکیل نے کہا کہ نظرثانی درخواستوں پر آئینی بینچ نے فیصلہ دیا، اب یہ معاملہ ختم ہوچکا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا جو آج کچھ دیر پہلے سنادیا گیا ہے۔
عدالت نے سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی درخواست خارج کردی ہے۔