سٹی 42: صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے نتائج پر انہیں کوئی حیرت نہیں ہوئی، کیونکہ کشمیری عوام کی اکثریت پنجاب جیسی ترقی اور عوامی خدمت کا ماڈل چاہتی ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا پیپلزپارٹی اس حد تک گرے گی اور پی ٹی آئی کا پارٹ ٹو بنے گی ؟۔
عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں خواتین نے بھی بھرپور جوش و جذبے سے ووٹ کاسٹ کیے، جبکہ کئی بزرگ خواتین صرف وزیراعلیٰ مریم نواز کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے آئیں۔ جو جماعت 18 سال تک حکومت کرتی رہی، اسے آج اشتہارات کے ذریعے عوام کو اپنی کارکردگی یاد دلانے کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی زمینی حقیقت سب کے سامنے ہے اور پنجاب میں شکست کھانے والے عناصر کی خواہش ہے کہ سیاسی انتشار اور فساد کی فضا برقرار رہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ کچھ دیر قبل شرجیل میمن نے پریس کانفرنس کی، جبکہ رونے دھونے کا سلسلہ تو گزشتہ روز صبح 10 بج کر 18 منٹ پر ہی شروع ہو گیا تھا۔پیپلز پارٹی نے تاحال الیکشن کمیشن میں کوئی باضابطہ درخواست جمع نہیں کرائی، بلکہ صرف میڈیا پر بیانیہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے دعویٰ کیا گیا کہ ان کے ایک رکن قومی اسمبلی کو گولی لگی، بعد ازاں کہا گیا کہ صرف پتھراؤ ہوا تھا۔ اس معاملے پر رانا ثناء اللہ بھی اپنا مؤقف دے چکے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کے ایک رکن قومی اسمبلی اپنے گن مینوں کے ہمراہ تین پولنگ اسٹیشنوں میں داخل ہوئے، جہاں ان کی لوگوں کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی، جبکہ چوتھے پولنگ اسٹیشن پر شہریوں نے انہیں زبردستی اندر جانے سے روک دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک صحافی جب مذکورہ رکن قومی اسمبلی سے ملاقات کے لیے گئے تو انہیں بتایا گیا کہ پارٹی نے ملاقات سے منع کیا ہے۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اگر ڈاکٹر منع کرتا تو بات سمجھ میں آتی، لیکن یہاں تو پارٹی ہی ملاقات سے روک رہی ہے۔