ویب ڈیسک: مودی، امت شاہ جوڑی کا زوال شروع، بی جے پی کی سلطنت دراڑوں کا شکار،بی جے پی اندرونی انتشار اور بغاوت کا شکار، مودی سرکار کے زوال کا آغاز، بہار انتخابات بی جے پی کے لیے موت یا زندگی کا امتحان ثابت ہوگی۔
مودی کی اقتدار پر گرفت کمزور،دی وائر کی مودی راج پر چشم کشا تحریر شائع ہوگئی، دی وائر کے مطابق’’بی جے پی پندرہ ریاستوں میں حکومت کے باوجود عوامی حمایت تیزی سے کھو رہی ہے‘‘
مودی سرکار نے ای ڈی، سی بی آئی اور انکم ٹیکس کو مخالفین کے خلاف سیاسی ہتھیار بنا دیا۔
مودی سرکار انکم ٹیکس، ای ڈی اور سی بی آئی کوسیاسی مخالفین کو دبانے اور منتخب حکومتیں گرانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔
دی وائر کے مطابق چیف جسٹس آف انڈیا کو انتخابی کمیشن کی تقرری کمیٹی سے نکالنا مودی سرکار کا متنازعہ قدم تھا، ماضی کے "کانگریس سسٹم" کے برعکس، مودی ایک خودمختار "بی جے پی سسٹم" قائم کرنے میں ناکام رہے۔
معاشی ناکامیوں، سماجی تقسیم، بے روزگاری، مہنگائی، اور سفارتی غلطیوں کی وجہ سے عوامی عدم اطمینان بڑھ رہا ہے،الیکشن کمیشن کے اعلیٰ عہدوں میں مودی سرکار کی اکثریت، آئینی خود مختاری کمزور ہوئی ہے۔
الیکشن کمیشن پر کنٹرول کیلئے قانون بدلا گیا، چیف جسٹس کی جگہ وزیر کو شامل کیا گیا،الیکشن کمیشن کے اعلیٰ اہلکاروں کی تقرری میں حکومت کا کنٹرول آئینی آزادی کو نقصان پہنچا رہا ہے،چیف جسٹس کو الیکشن پینل سے ہٹانے کے بعد شفاف انتخابات پر عوامی اعتماد متزلزل،مودی کے سوشل میڈیا حملوں کے باوجود راہول گاندھی عوام کے سامنے نئے جوش و جذبے کے ساتھ ابھرے ہیں۔
راہول گاندھی کی نشاندہی سے ایس آئی آر میں انتخابی بے ضابطگیاں منظر عام پر آئیں، راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا نے عوام کو جوڑ دیا، بی جے پی کے مضبوط قلعے ہلنے لگے، بہار کی شکست مودی حکومت کے زوال کا آغاز ثابت ہوگی، 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں مودی کی بی جے پی 60 سے زائد سیٹیں ہار گئی۔
دی وائر کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مودی کا "میک انڈیا گریٹ اگین" نعرہ ناکام، عالمی سطح پر بھارت کے اثرورسوخ میں واضح کمی،مودی حکومت کی خارجہ پالیسی ناکام، چین، امریکہ اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات شدید دباؤ کا شکار ہے، مودی ماڈل کی ناکامی نےبھارت میں مہنگائی، بے روزگاری اور سماجی تقسیم کے مسائل کو اجاگر کیا ہے۔