ویب ڈیسک: اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی کا اپنے بیان میں اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اسرائیل نے صمود فلوٹیلا کے جہازوں کو روکتے ہوئے اس پر سوار انسانی حقوق کے کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے، جنہیں اسرائیلی بندرگاہ اشدود منتقل کیا جا رہا ہے جہاں سے انہیں ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔
اطالوی وزیر خارجہ کے مطابق اطالوی سفارت خانے اور قونصلیٹ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جہاز پر سوار عملے کو مکمل تعاون فراہم کریں۔ اسرائیلی حکومت نے یقین دہانی کروائی ہے کہ عملے پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا جائے گا۔انتونیو تاجانی نے بتایا کہ انہیں اسرائیلی وزیر خارجہ کی جانب سے آگاہ کیا گیا تھا کہ فورسز فلوٹیلا پر سوار ہوں گی لیکن طاقت کا استعمال نہیں کریں گی۔
حماس کا شدید ردعمل:
دوسری جانب حماس نے اسرائیلی کارروائی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حماس رہنماؤں نے اسے بحری قزاقی اور دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاری بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
حماس نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس "اسرائیلی جرم" کی مذمت کریں اور اپنی قانونی و اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے کارکنوں اور امدادی جہازوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
یاد رہے کہ صمود فلوٹیلا 31 اگست کو اسپین سے فلسطینیوں کے لیے امداد لے کر روانہ ہوئی تھی، اور اس میں راستے میں دیگر ملکوں سے کئی جہاز شامل ہوتے گئے۔ رپورٹس کے مطابق، قافلے میں درجنوں کشتیوں پر 500 کے قریب افراد سوار تھے تاہم اسرائیلی بحریہ نے فلسطینی ساحلی حدود سے تقریباً 90 میل دور فلوٹیلا کے متعدد جہازوں کو زبردستی روک کر اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔