ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پہلگام حملہ انڈین سکیورٹی اداروں کی ناکامی کی وجہ سے ہوا ، را کے سابق سربراہ کا اعتراف

 پہلگام حملہ انڈین سکیورٹی اداروں کی ناکامی کی وجہ سے ہوا ، را کے سابق سربراہ کا اعتراف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:   انڈیا کی خفیہ ایجنسی ’ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ‘ (را) کے سابق سربراہ نے بھارت کے ہندوتوا پرست وزیراعظم کے جنگی جنون کے پروپیگنڈا کے غبارے  کی ہوایہ بتا کر نکال دی کہ پہلگام حملہ انڈین سکیورٹی اداروں کی ناکامی کی وجہ سے ہوا .  را کے سابق سربراہ نے یقین ظاہر کیا کہ اس معاملے پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان باقاعدہ جنگ کا امکان نہیں ہے بلکہ معاملات بات چیت سے حل ہونے کی توقع ہے۔
انگلینڈ کی نیوز آؤٹ لیٹ بی بی سی ہندی سے  انٹرویو میں ’را‘ کے سابق سربراہ نے کہا کہ ’ہاں اگر کوئی سرجیکل سٹرائیک کرنی ہے، کوئی بالاکوٹ کرنا ہے، تو ضرور کریں، محدود انداز میں فوجی کارروائی کرنا ٹھیک ہے مگر آپ جنگ کی بات کرتے ہیں تو وہ تو جوہری ہتھیاروں کی جنگ کی بات ہے تو یہ باتیں بس ڈرانے کے لیے ہیں۔‘
امرجیت سنگھ نے کہا کہ ’ہر جانب سے یہ سُننے کو ملتا ہے کہ اب بس جنگ ہونے والی ہے، لیکن میں تو یہ کہتا ہوں کہ وار اس دی لاسٹ بیڈ آپشن (جنگ آخری بُرا آپشن ہے)۔‘

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلگام حملے میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد ایک بیان میں کہا تھا وہ ’پہلگام میں سیاحوں پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں اور اُن کی پشت پناہی کرنے والوں کو زمین کے آخری کونے تک تلاش کریں گے اور انھیں ایسی سزائیں دی جائی گی جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔‘

انڈیا کے وزیر اعظم یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ پہلگام حملے کا ردعمل دینے کا طریقہ کار، اہداف اور وقت کا تعین کرنے میں انڈین مسلح افواج کو ’مکمل آپریشنل آزادی‘ ہے۔
بی بی سی نے بتایا کہ  پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور پاکستانی فوج کے ترجمان احمد شریف چوہدری سمیت بہت سے عسکری و حکومتی عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن اگر انڈیا کی جانب سے پہلگام حملے کے تناظر میں پاکستان کے خلاف کوئی فوجی کارروائی کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

’را‘ کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ  نے کہا کہ ابھی پاکستان اور انڈیا کے بیچ کُچھ ماحول خراب ہے مگر اسے ٹھیک کرنے کے اور بھی طریقے ہوتے ہیں جیسا کہ بیک چینل بات چیت۔
امرجیت سنگھ نے بتایا،  اب تو امریکی صدر ٹرمپ نے بھی کہہ دیا ہے کہ اِن (انڈیا، پاکستان) کے جھگڑے تو برسوں سے چلے آ رہے ہیں اور یہ اپنے حالات کو سنبھال لیں گے۔
 امر جیت سنگھ نے کہا،  ’میری سوچ کے مطابق بات چیت کبھی ختم نہیں ہوتی، کوئی نہ کوئی، کہیں نہ کہیں اور کبھی نہ کبھی بات چیت کرتا ہی رہتا ہے۔ اگر آپ بات نہ بھی کرنا چاہیں توسعودی عرب، ایران یا متحدہ عرب امارات میں سے کوئی نہ کوئی یہ ضرور کہے گا کہ اگر آپ سامنے نہیں آنا چاہتے تو ہم آپ کی جانب سے بات کر لیتے ہیں۔‘
بی بی سی کے مطابق جب امرجیت سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا آپ یہ نہیں سمجھتے کہ پاکستان کو نہ سہی مگر بین الاقوامی برادری کو اس سب میں پاکستان کے مبینہ طور ملوث ہونے کے ثبوت پیش کیے جانے چاہییں، تو اِس کے جواب میں امرجیت سنگھ کا کہنا تھا کہ ’ہاں اگر ایسا کیا جائے تو اچھا ہو گا۔‘
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف یہ کہہ چکے ہیں اس معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں اور پاکستان اس سلسلے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔ پاکستان کی جانب سے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ سامنے آنے کے بعد چین نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی ہے۔

 22 اپریل کو  پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد  انڈیا کے ذرائع ابلاغ میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک متنازعہ دعوے کی بنیاد پر ’ریزسٹنس فرنٹ‘ نامی گروپ کو اس کا ذمہ دار قرار دیا گیا، تاہم بعد میں ریزسٹینس فرنٹ کی جانب سے اس حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا گیا۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ حملہ سکیورٹی یا انٹیلیجنس کی ناکامی ہے، را کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دولت نے کہا کہ ’پہلگام میں جو بھی ہوا وہ سکیورٹی اداروں کی ناکامی کی وجہ سے ہوا، کیونکہ وہاں سکیورٹی تو تھی ہی نہیں۔‘
امرجیت سنگھ نے کہا کہ انڈیا کے مختلف حصوں سے یہ خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ کشمیریوں کو پہلگام واقعے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، یہ کسی بھی طور مناسب نہیں اور اس سب کا کشمیر کی صورتحال پر اثر پڑے گا۔‘