ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سوئٹزرلینڈ سےڈیڑھ سال بعد بھاری ٹریفک چالان کی ہوم ڈلیوری,سوشل میڈیا پر بڑی بحث

سوئٹزرلینڈ سےڈیڑھ سال بعد بھاری ٹریفک چالان کی ہوم ڈلیوری,سوشل میڈیا پر بڑی بحث
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)سوئٹزرلینڈ  کے دلکش مناظر سے لطف اندوز ہو کر وطن لوٹنے کے بعد ایک بھارتی سیاح کی خوشیاں اس وقت کافور ہو گئیں جب اس کے گھر پر ڈیڑھ لاکھ بھارتی روپے کا ٹریفک چالان پہنچا۔خاتون سیاح کے لیے یہ یقیناً بڑا جھٹکا تھا۔ سوئٹزرلینڈ سے واپسی کے تقریباً ایک سال بعد جب ان کے ڈاک پتے پر بڑی رقم کا چالان پہنچا تو ان کے ہوش اُڑ گئے۔ اب اس معاملے میں سوشل میڈیا پر بڑی بحث چھڑ گئی ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ پورا واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ’پون سپڈی‘ نامی خاتون سیاح نے ’ایکس‘ پر اپنی آپ بیتی شیئر کی۔ انہوں نے لکھا کہ ’’کیا یہاں کسی اور کو بھی  سوئٹزرلینڈ کی چھٹیوں سے واپس آنے کے کئی ماہ بعد ٹریفک خلاف ورزی کا چالان ملا ہے؟ ہمیں ہماری ٹرپ کے تقریباً ایک سال بعد قریب 1.5 لاکھ روپے (جس میں تقریباً 1 لاکھ روپے چالان اور لیٹ فیس ملا کر) کا چالان ہے‘‘۔ خاتون نے آگے لکھا کہ ’’اب یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں کہ کیا اس جرمانے کو کم کرانے، اپیل کرنے یا مکمل طور پر معاف کرنے کا کوئی قانونی طریقہ ہے‘‘۔

سوشل میڈیا کمیونٹی سے مشورے کے لیے خاتون نے ایک اور پوسٹ کرتے ہوئےلکھا ’’اگر کسی نے پہلے اس صورتحال کا سامنا کیا ہے یا کوئی اس سارے عمل کو جانتا ہے تو براہ کرم اپنا مشورہ شیئر کریں۔ آپ کی مدد کو بہت پسند کیا جائے گا‘‘۔ جب سوشل میڈیا پر لوگوں نے انہیں فوری رقم ادا کرنے کا مشورہ دیا تو خاتون نے واضح کیا کہ وہ جرمانہ ادا کرنے سے پیچھے نہیں ہٹ رہی ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’’ظاہر ہے، ہم جرمانہ تو بھریں گے لیکن ہمیں جو لیٹر ملا ہے اس میں لکھا ہے کہ ہم اس کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔ ہم خاص طور پر ’لیٹ فیس‘ کے خلاف احتجاج کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ انہوں نے تقریباً ایک سال بعد ہمیں یہ معلومات فراہم کی ہیں‘‘۔ اس واقعے کے بعد بھارتی مسافروں میں بیرون ملک کار کرائے پر لینے کے قواعد کو بغور پڑھنے کے بارے میں بحث تیز ہوگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جیسے ہی یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر آئی، دیکھتے ہی دیکھتے  وائرل ہو گئی۔ اسے 13 لاکھ  سے زیادہ ویوز ملے۔ صارفین نے تبصرے کے سیکشن میں مختلف مشورے دیئے۔ ایک صارف نے تشویشناک انداز میں لکھا کہ ’’سوئٹزرلینڈ کے ٹریفک قوانین بہت سخت ہیں۔ جرمانہ معاف کروانے کی کوشش کرنے سے اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسے فوری طور پر ادا کرنا بہتر ہے، ورنہ آپ کو اگلی بار شینگن ویزا حاصل کرنے میں پریشانی ہو سکتی ہے یا آپ کو بلیک لسٹ کیا جا سکتا ہے‘‘۔ ایک اور صارف نے اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’مجھے بھی جرمنی سے 10 ہزار روپے کا چالان آیا تھا، میں نے بھر دیا تھا، لیکن 1.5 لاکھ روپے تو واقعی چونکا دینے والے ہیں‘‘۔