ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں بحال ہونی چاہئیں، بیرسٹر گوہر کا 27 ستمبر کو پرامن احتجاج کا اعلان

بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں بحال ہونی چاہئیں، بیرسٹر گوہر کا 27 ستمبر کو پرامن احتجاج کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

احتشام کیانی: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں بحال ہونی چاہئیں، ہم اپنے حقوق کیلئے 27 ستمبر کو اسلام آباد آرہے ہیں، احتجاج پرامن ہوگا اور ریاست یا صوبے کے وسائل استعمال نہیں کیے جائیں گے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان نے بانی پی ٹی آئی سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اچھی بات ہے عدالتیں ہمیں انصاف دینا شروع کریں، ہمیں عدالتوں کے احکامات پر عملدرآمد چاہیے  320 دن ہوگئے ہماری بانی پی ٹی آئی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، حالیہ دنوں میں بھی ان سے میری کوئی ملاقات نہیں ہوئی جبکہ آخری ملاقات 15 اکتوبر 2025 کو ہوئی تھی۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 27 ستمبر کو ہم اسلام آباد فتح کرنے نہیں آرہے بلکہ اپنے حقوق مانگنے آرہے ہیں۔ ہم پرامن ہوں گے، کوئی تشدد نہیں ہوگا، ریاست یا صوبے کے وسائل استعمال نہیں کریں گے اور اڈیالہ جیل کے گیٹ توڑنے نہیں آرہے  ہمارے مطالبات منظور ہونے چاہئیں اور ان پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ ہم عدالتوں میں گئے، پارلیمنٹ اور سینیٹ میں آواز اٹھائی لیکن ہماری کسی نے نہیں سنی۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو سات سزائیں ہوئیں، 300 کیسز بنائے گئے اور وہ 3 سال سے جیل میں ہیں، اب بس ہونی چاہیے، اعتماد کی فضا بحال کرنے کیلئے بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرکے علاج کرایا جائے۔ بانی کے علاج پر ساری اپوزیشن ہمارے ساتھ ہے، احتجاج پر بھی تمام جماعتوں کو ساتھ چلنے کیلئے کہیں گے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بشریٰ بی بی کو ایک کیس میں اندر رکھا گیا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے۔ بانی پی ٹی آئی کے بچوں کا حق ہے کہ وہ واٹس ایپ پر ان سے بات کریں پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کرے۔ پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو مات دی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا احتجاج کا اعلان پاک، سعودی اور ترکیہ کے پیکٹ سے پہلے کا ہے۔ ہم نے پاکستان کی اہم سفارتی کامیابیوں میں کبھی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ جب پاکستان میں ایران، امریکہ مذاکرات ہوئے تو ہم نے اپنا جلسہ منسوخ کردیا، ایران اور چین کے وفود آئے تو ہم اسمبلی میں ساتھ بیٹھے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بدقسمتی ہے دوسری جانب سے کوئی پیش رفت کیلئے تیار نہیں۔ اگر ہمارے دروازے بند ہوں گے تو سسٹم سکڑنے پر آئے گا، آپ خود کہتے ہیں سسٹم کو ری سیٹ چاہیے۔ اگر آپ ری سیٹ کیلئے تیار نہیں تو عوام خود ری سیٹ کردے گی۔

اُنہوں نے کہا کہ بہتری اسی میں ہے کہ تناؤ کو ختم کیا جائے۔ سپریم کورٹ کے آرڈر پر عملدرآمد نہیں ہوا لیکن سارا پاکستان خوش تھا، سپریم کورٹ کے آرڈر پر آخری لمحے میں جنہوں نے عمل نہیں کیا انہوں نے اچھا نہیں کیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد اسمبلی میں حکومت کو اکاؤنٹیبل ٹھہرائے گا جبکہ باہر بھی عوامی مسائل پر اکٹھے چلیں گے۔ آزاد کشمیر کے مسائل پر ہمارا موقف واضح ہے، عوامی مطالبات پر بات چیت ہونی چاہیے۔ ہم ریاست مخالف یا پاکستان مخالف بیانیے کے ساتھ نہیں۔ حکومت کی جانب سے بات چیت کیلئے ابھی کوئی اشارہ نہیں آیا، تاہم ہم سمجھتے ہیں مسائل پر بات چیت ہونی چاہیے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ سیاسی ڈائیلاگ ضروری ہے، ہم اس نہج پر اس لیے پہنچے ہیں کہ ہماری بات نہیں سنی جارہی۔ سپریم کورٹ کے آرڈر پر عملداری کیوں نہیں ہوئی، ملاقاتیں کیوں بند ہیں؟

پی ٹی آئی کی فنڈنگ سے متعلق سوال پر اُنہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ ڈونیشن لی ہے، ہمارے اکاؤنٹ کلیئر ہیں۔ جو بھی فنڈنگ آتی ہے وہ اسٹیٹ بینک سے اپرووڈ ہے، تمام ڈونیشن بینکنگ چینل سے آتی ہے اور ہمارا آڈٹ ہوتا ہے۔

اُنہوں نے مزیدکہا کہ ہم سوشل میڈیا پر کسی صحافی کی ٹرولنگ کی حمایت نہیں کرتے، صحافی اپنی رائے عوام کے سامنے رکھنے میں آزاد ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کے بچوں کے حوالے سے ان کی فیملی زیادہ بات کرتی ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ قیدیوں کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، مناسب نہیں ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ وہ طویل عرصے سے جاری انسانی روابط پر پابندی کو بھی نظرانداز نہیں کرسکتی۔ سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر قانونی علیحدگی اور درحقیقت قیدِ تنہائی میں رکھنے میں فرق ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے مطابق اس فرق کا تعین قیدی کو فراہم کردہ کمروں سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوتا ہے کہ قیدی کو معقول اور بامعنی انسانی میل جول میسر ہے یا نہیں۔ سیکیورٹی وجوہات ایسے روابط کو منظم کرسکتی ہیں لیکن انہیں مکمل طور پر ختم نہیں کرسکتیں۔