سٹی 42: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی غیرقانونی قرار دینے کی درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری ہوگیا ۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے 24 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ اور فیملی سے ملاقاتیں کرانے کا حکم دیا ۔ بانی پی ٹی آئی کی بیٹوں سے واٹس ایپ آڈیو اور ویڈیو کالز پر بات کرانے کا حکم دیا ۔ واٹس ایپ کال سیاسی مہم کیلئے استعمال کی صورت میں سہولت معطل کی جا سکے گی، بانی پی ٹی آئی کو میڈیکل بورڈ کی سفارشات کے مطابق روزانہ ایک گھنٹہ واک کی اجازت دینے کی ہدایت بھی کی ۔
تحریری فیصلے کے مطابق سیکیورٹی کو بنیاد بنا کر بانی پی ٹی آئی کو انسانی تعلق اور بات چیت سے مکمل محروم نہیں رکھا جا سکتا،اڈیالہ جیل انتظامیہ بانی پی ٹی آئی کو اخبارات، میگزین اور مطالعے کے لیے کتب کی فراہمی یقینی بنائے،علامہ اقبال، سیرت النبیؐ اور تاریخ پر مبنی درخواست گزاروں کی جانب سے پیش کردہ کتب سیکیورٹی اسکروٹنی کے بعد فراہم کرنے کا حکم دیا ۔
میڈیکل بورڈ کی سفارشات اور جیل قوانین کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو ٹی وی کی سہولت بھی فراہم کی جائے، بشریٰ بی بی کو غیرقانونی قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے، تمام شرائط و ضوابط کا ان پر بھی یکساں اطلاق ہو گا،سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 15 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کی رپورٹ ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کے پاس جمع کرانے کی ہدایت کردی ۔
علیمہ خانم نے بانی پی ٹی آئی جبکہ مبشرہ مانیکا نے بشریٰ بی بی کی قید تنہائی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل یقینی بنائیں کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھیں۔