سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان پائیدار علاقائی امن کیلئے پرعزم ہے، عالمی معاہدوں پر ان کی روح اور الفاظ کے مطابق مکمل عملدرآمد ضروری ہے، پانی کو سیاسی مقاصد یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔
بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ تاریخی اجلاس میں شریک ہونا ان کیلئے اعزاز کی بات ہے، شنگھائی تعاون تنظیم عالمی امن و استحکام کیلئے اہم پلیٹ فارم ہے جبکہ ایس سی او کے 25 سال مکمل ہونا اہم سنگ میل ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستان ایس سی او کا فعال اور ذمہ دار رکن ہے، عالمی منظرنامہ بڑھتی جغرافیائی کشیدگی سے دوچار ہے اور ایس سی او مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے اجتماعی عزم کی علامت ہے۔ پاکستان تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی قانون پر یقین رکھتا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے علاقائی بحران کے دوران امن کیلئے مؤثر کردار ادا کیا، پاکستان کی سفارتی کوششیں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط تک پہنچیں، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے کا حامی ہے، عالمی اداروں کو اعلانات کو عملی اقدامات میں بدلنا ہوگا۔ غزہ اور مغربی کنارے میں انسانی المیہ ناقابل تصور مصائب کا باعث ہے، عالمی برادری فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کا احترام کرے۔
اُنہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا پائیدار امن کے بغیر اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کرسکتا۔ پانی ہمارے خطے کی زندگی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے، پانی کو سیاسی مقاصد یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ عالمی معاہدوں پر ان کی روح اور الفاظ کے مطابق مکمل عملدرآمد ضروری ہے اور مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی خطے کو درپیش سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دیں جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستان کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کرنے دی جاسکتی۔ ایس سی او خطے میں 3 ارب سے زائد افراد آباد ہیں اور پاکستان پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے وزیراعظم نے کہا کہ علاقائی رابطہ کاری اب انتخاب نہیں بلکہ تزویراتی ضرورت ہے۔ سی پیک علاقائی معیشتوں کو بحیرہ عرب سے جوڑنے کا اہم ذریعہ ہے، پاکستان علاقائی ریل، سڑک اور توانائی منصوبوں کے فروغ کیلئے پرعزم ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایس سی او کی ترقیاتی حکمت عملی 2035 پر عملدرآمد ضروری ہے، جبکہ ایس سی او ترقیاتی بینک کا قیام اہم قدم ثابت ہوگا۔ پاکستان غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ کے فروغ کیلئے کردار جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ میں توانائی، آئی ٹی، صحت، ثقافت اور کھیل کو بھی ترجیح دی جائے گی، جبکہ پاکستان ایس سی او میں مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر اور گورننس فریم ورک کی تجویز دے گا۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماؤں سے غیررسمی ملاقاتیں کیں، جن میں اہم علاقائی، عالمی اور دوطرفہ امور پر گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نے چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات کی، جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات ہوئی۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی بیلاروس، ازبکستان، تاجکستان اور قازقستان کے صدور سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔