سٹی42: صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے باشندوں کی بہادری کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرے گی، انہوں نے سات سو جانوں کی قربانی دے کر اپنی آزادی حاصل کی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔ بھارت میں کشمیریوں کی نسل کشی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔مقبوضہ کشمیر کو آزاد ہونا چاہئے، کشیر کی آزادی وقت کی ضرورت ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے یہ باتیں گلگت بلتستان کی ڈوگرہ حکومت سے آزادی کے دن کی خصوصی تقریب میں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔
گلگت بلتستان کے 78ویں جشن آزادی کے موقع پر پروقار تقریب میں صدر آصف علی زرداری نے مہمانِ خصوصی تھے۔گلگت بلتستان کے گورنر اور وزیراعلیٰ نے مہمان خصوصی کا استقبال کیا۔ گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے صدرِ مملکت کو بلتستان کی روایتی ٹوپی اوڑھائی۔
صدر آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کی فورسز کی شاندار پریڈ کا معائنہ کیا۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا 1947 میں جہاد کر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا، جبکہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی وقت کی ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان میرا گھر ہے، گلگت بلتستان کے عوام کی بہادری کو ہم کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا، گلگت بلتستان کو تعلیم اور صحت کی تمام سہولیات ملنی چاہئیں۔ ہر وادی میں سکول ہونے چاہئیں۔ گلگت بلتستان معدنیات سے مالا مال ہیں، یہ پہاڑ آپ کا اور میرا سرمایہ ہیں۔ یہاں سیاحت کو فروغ مل سکتا ہے۔ گلگت بلتستان کو اپنی ایئرلائن بھی ملنی چاہیے۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا، بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم کا بازار گرم ہے۔ بھارت میں کشمیریوں کی نسل کشی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی وقت کی ضرورت ہے۔ مقبوضہ کشمیر طویل عرصے سے بھارت کے مظالم کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان کی ترقی کا مظہر ہے، چین ہمارا دوست اور شراکت دار ملک ہے، سی پیک فیز ٹو کامیابی سے اپنے مراحل طے کررہا ہے۔