ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزن کم کرنے کیلئے AI سے مشورے لینے والوں کو ڈاکٹرز نےخبردار کردیا

وزن کم کرنے کیلئے AI سے مشورے لینے والوں کو ڈاکٹرز نےخبردار کردیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں فٹ اور صحت مند رہنے کی خواہش تیزی سے مصنوعی ذہانت (AI) کا سہارا لینے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اب موبائل پر صرف چند کلکس کے ذریعے کم کیلوریز والی ڈائٹ، ورزش کے منصوبے اور وزن کم کرنے کے مشورے حاصل کرنا ممکن ہو گیا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اے آئی واقعی ہر انسان کے جسم، عادات اور صحت کی مکمل اور درست سمجھ رکھتا ہے؟

مصروف طرزِ زندگی کے باعث بہت سے لوگ کسی جادوئی حل کی تلاش میں اپنی صحت کی ذمہ داری مشینوں کے سپرد کر رہے ہیں۔ اے آئی چند سیکنڈ میں مکمل ڈائٹ پلان تو فراہم کر سکتا ہے، مگر آخرکار یہ ایک مشین ہے جو ڈیٹا کو سمجھتی ہے، انسان کے جذبات، موڈ، پسندیدہ غذا یا ذہنی کیفیت کو نہیں۔

ماہرین کے مطابق وزن کم کرنے کا تعلق صرف کیلوریز گھٹانے سے نہیں بلکہ جسم اور ذہن کے باہمی توازن سے بھی ہے۔ اگر کوئی شخص اے آئی کے سخت اور متعین کردہ اصولوں پر آنکھ بند کر کے عمل شروع کر دے تو اسے ذہنی دباؤ یا بے سکونی کا سامنا بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ مشین یہ نہیں جان سکتی کہ کسی دن آپ کو آرام کی ضرورت ہے یا گھر کا سادہ کھانا کھانے کا دل چاہ رہا ہے۔

دوسری جانب ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اے آئی پر مبنی ہیلتھ اور فٹنس ایپس عمر، وزن، قد، روزمرہ سرگرمیوں، نیند اور خوراک سے متعلق معلومات کا تجزیہ کر کے ذاتی نوعیت کی تجاویز دیتی ہیں۔ اگر ان ٹولز کو سمجھداری سے استعمال کیا جائے تو یہ صحت سے متعلق آگاہی بڑھانے، مستقل مزاجی برقرار رکھنے اور پیش رفت کو مانیٹر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

تاہم ڈاکٹرز خبردار کرتے ہیں کہ اے آئی کو مکمل طور پر ڈاکٹر کا متبادل سمجھنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ہر فرد کی طبی تاریخ، ہارمونز کی کیفیت اور جسمانی ضروریات مختلف ہوتی ہیں، جنہیں مشین ہمیشہ درست انداز میں نہیں سمجھ سکتی۔ خاص طور پر تھائیرائیڈ، پی سی او ایس، ذیابیطس، ہارمونل مسائل یا دل کی بیماریوں کی صورت میں مستند ڈاکٹر کی نگرانی بے حد ضروری ہے۔