ویب ڈیسک : متحدہ عرب امارات میں حکومت نے عوام کو فیصلوں میں براہِ راست شامل کرنے کےلیے ایک نئی سرکاری اتھارٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے نئے سرکاری ادارے ’کمیونٹی مینیجڈ ورچوئل اتھارٹی‘ کے قیام کا اعلان کیا ہے، جسے مکمل طور پر اماراتی شہری خود چلائیں گے۔نئے نظام کے تحت عام شہری، ماہرین، نوجوان، کاروباری افراد اور ریٹائرڈ لوگ باری باری کمیونٹی ورچوئل اتھارٹی کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔
جس میں اماراتی افراد کو روایتی انتخابات کے بجائے اہلیت، تجربے اور صلاحیت کی بنیاد پر منتخب کیا جائے۔اماراتی سرکاری خبر رساں ادارے وام کے مطابق، اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ عوام کو صرف ووٹ دینے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں براہِ راست فیصلے کرنے میں شریک کیا جائے۔
UAE President directs launch of 'Community-Managed Virtual Authority' as Year of Community concludes#WamNews https://t.co/ZQMJYHt4ry pic.twitter.com/86LGnwgpld
— WAM English (@WAMNEWS_ENG) January 1, 2026
نئی اتھارٹی ایسے منصوبے تیار کرے گی جو فوری طور پر نافذ کیے جا سکیں گے اور جن سے عوام کی زندگی بہتر ہو۔ یہ نظام عوامی مشاورت اور شراکت پر مبنی ہوگا، جسے ماہرین ایک جدید اور شراکتی جمہوری ماڈل قرار دے رہے ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس نئے طریقۂ کار سے بہتر فیصلے ہوں گے اور عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔