ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سموگ تدارک کیس، لاہور ہائیکورٹ کا شہر میں ترقیاتی کاموں کی سست روی پر ڈی جی واسا پر اظہار ناراضگی

سموگ تدارک کیس، لاہور ہائیکورٹ کا شہر میں ترقیاتی کاموں کی سست روی پر ڈی جی واسا پر اظہار ناراضگی
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ کا شہر میں ترقیاتی کاموں کی سست روی پر ڈی جی واسا پر اظہار ناراضگی، ایم ڈی واسا کو لاہور میں ہونیوالے تمام ترقیاتی کاموں کی ڈیڈ لائن کورٹ میں جمع کروانے کی ہدایت ، عدالت نے نہر پر ہونیوالے کسی بھی ترقیاتی کام کو پی ایچ اے کی منظوری سے مشروط کردیا جبکہ جی ایم نیسپاک نے ییلو لائن منصوبہ کے متعلق کیسی بھی پی سی ون جمع کروانے ہونے کی تردید کردی ۔

جسٹس شاہدکریم نے سموگ تدارک کیس کی سماعت کی، جسٹس شاہد کریم نے دوران سماعت ڈی جی واسا سے کہا سارے لاہور کا حال دیکھیں، بہت بُرا ہے، لوگوں کے کاروبار تباہ ہورہےہیں،کیا ان کا معاوضہ واسا دے گا، کام کم کب ختم ہوگا،پتہ ہی نہیں، آپ کو احساس ہی نہیں کہ لوگوں کے گھرکے باہرسڑک بند ہوگئی ہے، وہ باہر جا سکتے ہیں نہ اندرآسکتےہیں، آپ کو یہ احساس تو ہونا چاہئیے کہ وہ کاروبار والی جگہ تک تو جاسکیں، ڈی جی واسا عدالت کو مطمئن نہ کرسکے۔
جسٹس شاہد کریم نےڈی جی واسا سے کہا بروقت کام مکمل کروائیں ،کئی علاقے ہیں جہاں شہریوں کا جینا محال ہے وہ کدھر جائیں، آپ پبلک سرونٹ ہیں، شہریوں کا خیال کریں۔ ڈی جی واسا نے جواب دیا منصوبوں پرازسرنونظرثانی کی ضرورت ہے۔
جسٹس شاہد کریم نےمنصوبے شروع کرنے سے پہلے شہریوں کیلئے متبادل راستے کا انتظام کرنے کی ہدایت کی،جنرل مینجرنیسپاک جمشید جنجوعہ نے بتایا کہ کینال روڈ پر27 ہزار سے زائد درختوں کی جیو ٹیکنگ مکمل کرلی ہے، کسی بھی پراجیکٹ کیلئے کوئی درخت نہیں کاٹا جائیگا،جسٹس شاہد کریم نے جنرل مینجر نیسپاک جمشید جنجوعہ کی تعریف کی۔
جسٹس شاہدکریم نے ریمارکس دیئےکہ محکمہ ماحولیات کا ان پراجیکٹس میں اہم کردارہے لیکن وہ خاموش ہے،بارش نہ ہوتودھول شہر کا سب سے بڑا مسئلہ ہو،عدالت نے پی ایچ اےکونہرپرترقیاتی کاموں کیلئے ایڈوائزری کمیٹی تشکیل دینے کاحکم دیدیا۔



 

Ansa Awais

Content Writer