ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

قتل کیس، ملزم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل

قتل کیس، ملزم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے سالے کے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے مجرم رفاقت علی کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے اس کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کی جانب سے وجہ عناد اور برآمدگی کو مکمل طور پر ثابت نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث سزائے موت برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری اور جسٹس جواد ظفر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مجرم رفاقت علی کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت کی ، بینچ نے دلائل سننے کے بعد مجرم رفاقت علی کی اپیل پر جزوی طور پر فیصلہ سناتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔دوران سماعت ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل عبد الصمد نے مجرم کی اپیل کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ملزم نے بے دردی سے چھریوں کے وار کرکے اپنی بیوی کے بھائی آصف اسلم کو قتل اور اپنی ساس نذیراں بی بی کو زخمی کیا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ واقعے کا مقدمہ تھانہ بٹالہ کالونی فیصل آباد میں 26 اکتوبر 2018 کو درج کیا گیا تھا۔کیس میں چشم دید شہادت موجود ہے اور مجرم  کی زخمی ہونے والی  ساس نذیراں بی بی کے ساتھ ساتھ ملزم کی بیوی نے بھی عدالت میں ملزم کے خلاف گواہی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس تفتیش، میڈیکل رپورٹ اور گواہوں کے بیانات سے ملزم کا جرم ثابت ہوتا ہے اور ٹرائل کورٹ نے تمام شواہد اور وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ملزم کو سزائے موت سنائی تھی، لہٰذا اپیل خارج کی جائے۔دوسری جانب وکیل صفائی نے عدالت کے روبرو ملزم کی بریت کے لیے دلائل دیے تاہم وہ عدالت کو مطمئن نہ کرسکے۔دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کی جانب سے وجہ عناد اور برآمدگی کو ثابت نہیں کیا جا سکا، اس بنیاد پر مجرم رفاقت علی کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

Ansa Awais

Content Writer