ویب ڈیسک: بھارت میں حکومتی سرپرستی میں اقلیت مخالف پالیسیاں جاری ہیں، حکومت کی جانب سے سڑکوں پر نماز عید ادا کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے تاہم اس دوران ایک خوبصورت لمحہ تب دیکھنے میں آیا جب جے پور میں کچھ ہندوؤں نے مسلمانوں پر پھول نچھاور کرکے عید کی خوشیوں میں شریک ہونے کا اظہار کیا۔
ہندو مسلم یکجہتی کمیٹی کے بینر تلے، ہندو مردوں نے جے پور دہلی روڈ پر واقع عیدگاہ میں عید منانے آئے مسلمانوں پر پھول برساتے ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہندو مرد، جنہوں نے زعفرانی رنگ کے اسکارف پہن رکھے تھے اوپر سے پھول برسا رہے ہیں جبکہ نیچے مسلمان مرد اور بچے عید کی خوشیاں منا رہے ہیں۔
دوسری جانببھارت میں مودی کی سربراہی میں بی جے پی اور آر ایس ایس کی ہندو انتہا پسندی اقلیتیں بالخصوص مسلمان اس کا واضح نشانہ بن رہے ہیں۔
مسلمانوں کے لیے جہاں بھارتی سر زمین پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے وہاں اب نماز عید کی ادائیگی بھی جرم بنا دیا گیا ہے،گزشتہ روز ریاست اتر پردیش میں عیدالفطر کی نماز سڑک پر ادا کرنے پر پابندی عائد کرنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا۔
میرٹھ پولیس نے دھمکی دی ہے کہ سڑک پر نماز عید ادا کرنے والوں پر مقدمہ درج کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ہی ان کے پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائسنس بھی منسوخ کر دیے جائیں گے۔
لوک سبھا کے رکن اسد الدین اویسی نے میرٹھ پولیس کے اقدام کو امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس ہندوؤں کی کاوڑ یاترا ہوتی ہے تو پھول برساتی ہے لیکن اگر مسلمان سڑک پرعید کی نماز پڑھیں تو پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کرنے کی دھمکی دیتی ہے۔