ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

رشوت کیس؛ این سی سی آئی اے کے 6 افسران عدالت پیش

رشوت کیس؛ این سی سی آئی اے کے 6 افسران عدالت پیش
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

شاہین عتیق:رشوت کیس ،این سی سی آئی اے کے 6افسران کو عدالت پیش کر دیا گیا، ایڈیشنل ڈائریکٹر چودھری سرفراز کو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر چودھری شعیب ریاض ،سب انسپکٹر علی رضا،اسسٹنٹ ڈائریکٹر مجتبیٰ ظفر ،سب انسپکٹر یاسر سلطان کو پیش کیا گیا، ڈپٹی ڈائریکٹر زوار ظفر کو بھی ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت پیش کیا گیا۔

ایف آئی اے نے ملزمان کے مزید ریمانڈ کی استدعا کر دی، ملزمان کی طرف سے رانا عبدالمعروف اورفاروق باجوہ ایڈدوکیٹ پیش ہوئے۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا تھا کہ تفتیش مکمل کرنے کیلئے جسمانی ریمانڈ میں 14روز کی توسیع کی جائے،ملزمان کے وکلا کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی گئی۔

وکیل ملزمان نے کہا کہ ملزمان کا 3دن کا پہلے ہی ریمانڈ ہو چکا ،ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں، ایف آئی اے نے جوالزامات لگائے ان کے ثبوت موجود نہیں۔

واضح رہے کہ این سی سی آئی اے کے افسران کے خلاف مقدمہ یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں الزام ہے کہ یوٹیوبر کی فیملی سے مجموعی طور پر 90 لاکھ روپے رشوت کے طور پر وصول کیے گئے۔

ایف آئی آر کے مطابق تفتیشی افسر شعیب ریاض نے ڈکی بھائی کو ریلیف دلوانے کے لیے 60 لاکھ روپے رشوت وصول کیے، جو انہوں نے اپنے فرنٹ مین کے ذریعے لیے اور یہ رقم یوٹیوبر کے دوست عثمان نے فراہم کی۔

ایف آئی آر میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ شعیب ریاض نے 50 لاکھ روپے اپنے فرنٹ مین کو کار شو روم کے مالک کے پاس رکھوائے، جب کہ 20 لاکھ روپے خود اپنے پاس رکھے اور ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز کو اس رقم میں سے 5 لاکھ روپے دیے گئے۔