سٹی42: لاہور سمیت پنجاب بھر میں بڑھتی ہوئی دھند اور اسموگ کے پیش نظر صوبائی حکومت نے ٹریفک حکام کو خصوصی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب وقاص نذیر نے تمام چیف ٹریفک آفیسرز (CTOs) اور ڈسٹرکٹ ٹریفک آفیسرز (DTOs) کو مراسلہ بھیجا ہے، جس میں موسمِ سرما کے دوران محفوظ سفر یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔مراسلے کے مطابق دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جبکہ اسموگ پیدا کرنے والی گاڑیوں کی نشاندہی اور چیکنگ کے لیے ٹریفک پولیس، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA) اور ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔
ریت اور مٹی سے بھری گاڑیوں کو بغیر ترپال سڑکوں پر چلنے سے روکا جائے گا، اور شوگر کین ٹرالیز، ٹرکوں اور مزدا گاڑیوں پر ریفلیکٹر اسٹیکرز لگانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ رات کے وقت حادثات سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب پنجاب پولیس نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور سموگ کریک ڈاؤن کے دوران 22 مقدمات درج کر کے قانون شکن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس مہم کے دوران 1539 افراد کو 30 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے جبکہ 53 افراد کو وارننگ جاری کی گئی۔
زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی خلاف ورزیوں کی تعداد 1317 ریکارڈ کی گئی جبکہ صنعتی سرگرمیوں کی 8 اور بھٹوں کی 14 خلاف ورزیاں بھی رپورٹ ہوئیں۔ مجموعی طور پر 82 ہزار 601 افراد کو 21 کروڑ سے زائد جرمانے عائد کیے گئے اور 16 ہزار سے زائد افراد کو وارننگ جاری کی گئی۔ فصلوں کی باقیات جلانے کی 616 خلاف ورزیاں بھی رپورٹ ہوئیں۔
پنجاب پولیس کے مطابق زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی 57,231 خلاف ورزیاں، صنعتی سرگرمیوں کی 1678 اور بھٹوں کی 3220 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔
ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب نے کہا کہ تمام گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے بیک لائٹس، اشارے اور شیشے درست حالت میں رکھنا لازمی ہے، شہری سفر کے دوران رفتار کم کریں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔ان کا کہنا تھا کہ شاہراہوں اور انڈسٹریل ایریاز پر سموگ کریک ڈاؤن میں تیزی لائی جائے اور زرعی و دیگر مقامات پر انسداد سموگ کی کارروائیاں مؤثر بنائی جائیں۔ سموگ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی جائے گی تاکہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔