لاہورہائیکورٹ: تعلیمی اداروں میں سگریٹ نوشی کیخلاف کیس کی سماعت


ملک اشرف: لاہورہائیکورٹ نےقرار دیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں سگریٹ نوشی انتہائی خطرناک اور پانی کے تحفظ سے زیادہ سنگین معاملہ ہے۔

عدالت نے تعلیمی اداروں کے گرد 50 میٹر کی حدود میں سگریٹ نوشی اور فروخت پر پابندی عائد کرتے ہوئےسی سی پی او، سیکرٹری ایچ ای سی اورسیکرٹری سکولز کو طلب کرلیا۔ ہائیکورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے درخواست پر سماعت کی، ایڈیشنل سیکرٹری سکول اور عدالتی معاون بریسٹر حسنین نےرپورٹ پیش کی۔ درخواست گزار نےموقف اختیار کیا کہ تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر میں سگریٹ نوشی کے باعث بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ متعلقہ ادارے سگریٹ نوشی کی روک تھام کے لیے اقدامات نہیں کررہے۔

درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر میں سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کرنے اور متعلقہ اداروں کو اس پر عمل درآمد کرنے کا حکم دے۔ ایڈیشنل سیکرٹری سکولز نے بتایا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد شروع کردیا گیا ہے۔ تمام تعلیمی اداروں کے سربراہوں کو اس حوالے سے مراسلے بھی لکھ دیئے ہیں۔

عدالتی معاون بریسٹر نےعدالت میں رپورٹ پیش کرتےہوئے بتایا کہ سموکنگ آرڈیننس دوہزار دو کے سیکشن نو کے تحت تعلیمی اداروں میں پچاس میٹر تک سگریٹ فروخت نہیں ہوسکتی لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہورہا ۔ عدالت نےایڈیشنل سیکرٹری تعلیم کی سربراہی میں پنجاب بھر میں سگریٹ نوشی کی روک تھام کے لئے کمیٹیاں تشکیل دے کر 7نومبر کو عمل درآمد رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

شازیہ بشیر

Content Writer