ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

عرب  فارن منسٹرزکی اپنے فلسطین جانے پر اسرائیل کی پابندی کی مذمت 

عرب  فارن منسٹرزکی اپنے فلسطین جانے پر اسرائیل کی پابندی کی مذمت 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  سعودی عرب اور چار دوسرے  مسلم  ممالک کے فارن منسٹرز نے اپنے فلسطین جانے پر اسرائیل کی پابندی کی مذمت کی ہے۔
چار عرب ممالک  اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے  کل اتوار کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کا دورہ کرنے کا ارادہ کیا تھا، وہ ویسٹ بینک جا کر فلسطین کے صدر محمود عباس سے ملاقات کرنا چاہتے تھے۔ اچانک اسرائیل کی حکومت نے اعلان کر دیا کہ وہ ان وزرا خارجہ کو ویسٹ بینک نہیں جانے دے گا۔

اسرائیل کی حکومت کے کسی عہدیدار نے  بلنٹ الفاظ میں اس وزٹ کو روکنے کی وجہ یہ بتائی کہ اسرائیل کی اتحادی حکومت کے نزدیک یہ وزٹ "فلسطین کی ریاست" کے قیام کی ایک کوشش ہو گا۔ فلسطین کی ریاست نظری اعتبار سے خود اسرائیل کے دستخط کردہ انٹرنیشنل اکارڈ کے تحت وجود تو رکھتی ہے لیکن ادھورا وجود رکھتی ہے، جسے مکمل اختیار حاصل کرنے کے لئے اسرائیل کے ساتھ مزید مذاکرات کرنے کی ضرورت ہے۔ آنے والے دنوں میں فرانس اور بعض دوسرے یورپی ملک ٹو سٹیٹ سالیوشن کی طرف پیش رفت کے لئے ڈپلومیٹک ایفرٹس کر رہے ہیں، اس ہی تناظر میں اسرائیل کی اتحادی حکومت نے بھڑک کر پانچ  اہم ملکوں کے وزرا خارجہ کے فلسطین جانے پر پابندی لگا دی۔  

سعودی عرب کے وزیر خارجہ پہلی مرتبہ فلسطین کی سرزمین پر جانے والے تھے۔ انہیں ہی اس پانچ ملکوں کے فارن منسٹرز کے وفد کی قیادت کرنا تھی۔

اسرائیل کی طرف سے وزرا خارجہ کا وزٹ روکے جانے پر فوری ردعمل میں اردن کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وزراء نے اسرائیل کی طرف سے فلسطینی ریاست کے صدر محمود عباس سے ملاقات کے لیے (اتوار کو) رام اللہ کے دورے پر پابندی لگانے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

ترکی کے ساتھ مصر، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزراء کی محمود عباس کے ساتھ  ملاقات متوقع تھی۔

فرنچ نیوز آؤٹ لیٹ فرانس 24 کی رپورٹ
اسرائیل نے پانچ عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ملاقات کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اسرائیل فلسطینی سرزمین کی سرحدوں اور فضائی حدود کو کنٹرول کرتا ہے۔

ایک فائل تصویر جس میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود کو 27 مئی 2025 کو ملائیشیا کے کوالالمپور کنونشن سینٹر میں ASEAN-GCC کے دوسرے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

جب سعودی ذرائع نے بتایا تھا  کہ مملکت کے اعلیٰ سفارت کار رام اللہ جا رہے ہیں۔ تو اس کے بعد  ایک اسرائیلی اہلکار نے  ہفتے کے روز یہ اعلان کیا کہ  اسرائیل عرب وزرائے خارجہ کے  مغربی کنارے کے  دورے کے ساتھ تعاون نہیں کرے گا،

اسرائیل فلسطینی سرزمین کی سرحدوں اور فضائی حدود کو کنٹرول کرتا ہے، یعنی سفارت کاروں کے داخلے کے لیے اس کی منظوری درکار ہوگی۔

اسرائیل کی حکومت کے ایک عہدیدار نے میڈیا کو اپنا پرسپیکٹو بتایا، "فلسطینی اتھارٹی - جو آج تک 7 اکتوبر کے حماس کے برپا کئے قتل عام کی مذمت کرنے سے انکار کرتی ہے -اس  کا مقصد رملہ میں فلسطینی ریاست کے قیام کے فروغ پر بات کرنے کے لیے عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کے ایک اشتعال انگیز اجلاس کی میزبانی کرنا تھا"۔

اس عہدیدار نے بلنٹ زبان میں فلسطینی اتھارٹی پر الزامات تھوپے اور کہا، "ایسی ریاست بلاشبہ اسرائیل کی سرزمین کے قلب میں ایک دہشت گرد ریاست بن جائے گی۔ اسرائیل ایسی حرکتوں کے ساتھ تعاون نہیں کرے گا جس کا مقصد اسے اور اس کی سلامتی کو نقصان پہنچانا ہو۔"

صدر محمود عباس کی قیادت میں کام کرنے والی فلسطینی اتھارٹی نے  گزشتہ دنوں میں اسرائیل کے خلاف کوئی اشتعال انگیز بات نہیں کی۔ غزہ کی جنگ مین فلسطینی اتھارٹی عملاً خاموش تماشائی ہے تاہم گزشتہ روز اقوام متحدہ کے فورم پر فلسطینی اتھارٹی کے نمائندہ نے غزہ میں بچوں کے بھوک سے مرنے کی مذمت  ضرور کی تھی۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے مغربی کنارے کے دورے پر آئے سفارت کاروں پر ’انتباہی گولیاں‘ چلانے کے بعد غم و غصہ
اسرائیل کا کہنا ہے کہ سفارت کاروں کے مغربی کنارے کا دورہ کرنے کے بعد اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ کے بعد 'اسے تکلیف پر افسوس ہے'

ہفتے کے روز پانچ ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کے اپنے منصوبوں کو روکنے کے فیصلے کی مذمت کی۔

اردن کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وزراء نے "ریاست فلسطین کے صدر محمود عباس سے ملاقات کے لیے وفد کے رام اللہ (اتوار کو) دورے پر پابندی لگانے کے اسرائیل کے فیصلے کی مذمت کی"۔

اسرائیل 'فلسطینی علاقوں کو ضم کرنے کی کوشش کر رہا ہے': مغربی کنارے کی نئی بستیوں پر غصہ

اسرائیل نے اس ہفتے مغربی کنارے میں 22 نئی بستیوں کی تعمیر کا اعلان کیا، جن کی اقوام متحدہ کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مذمت کی جا رہی ہے، اور انہیں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان پائیدار امن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

جمعہ کو،  نئی سیٹلمنٹس کیلئے  تجویز  کیے جانے والے علاقوں میں سے ایک کا دورہ کرتے ہوئے، اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے مغربی کنارے میں ایک "یہودی اسرائیلی ریاست" بنانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

غیر ملکی ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے جو "کاغذ پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے"، کاتز نے مزید کہا: "کاغذ کو تاریخ کے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے گا، اور اسرائیل کی ریاست پھلے پھولے گی اور ترقی کرے گی۔"

سعودی وزیر خارجہ کے ویسٹ بینک وزٹ کا مستقبل کی ڈپلومیسی سے تعلق

کل شروع ہونے والے جون میں، سعودی عرب اور فرانس اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کی مشترکہ صدارت کریں گے جس کا مقصد اسرائیل-فلسطین تنازعہ کے دو ریاستی حل کو زندہ کرنا ہے۔

سعودی عرب کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ غزہ جنگ کے آغاز سے پہلے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے قریب تھا اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاض کے حالیہ دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان معمول پر آنے کو "میری پرجوش امید اور خواہش" قرار دیا تھا۔

لیکن  اب کراؤن پرنس محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب آزاد فلسطینی ریاست کے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ اس کے بعد یہ ہی بات اہم مسلم ملک انڈونیشیا نے کہی، انڈونیشیا کی طرف سے کہا گیا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کر سکتا ہے لیکن تب جب فلسطین کی آزاد ریاست بن جائے۔