ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے آوارہ کتوں کے حوالے سے حکومتی پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف پیپلز پارٹی کی درخواست پر پنجاب حکومت سے وضاحت طلب کرلی ۔
جسٹس حسن نواز مخدوم نے نے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے شہری مجید الحق غوری اور وحید احمد کی درخواست پر سماعت کی ، درخواست گزاروں کی جانب سے سیدہ معصومہ بخآری ایڈوکیٹ پیش ہوئیں جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل ستار ساحل پیش ہوئے ، درخواست گزار وکیل بیرسٹر سیدہ معصومہ بخاری نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت کی اپنی پالیسی ہے ، جس کو انہوں نے تسلیم بھی کیا ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ پالیسی کیا ہے، جسٹس حسبرتھ اینمل کنٹرول پالیسی 2021 ہے، بیرسٹر حسن نواز نے استفسار کیا کہ درخواست گزاروں کا اس پٹیشن سے کیا تعلق ہے، درخواست گزار خاتون وکیل نے جواب دیا یہ سیاسی لوگ ہیں اور ان کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے، مفاد عامہ کے تحت درخواست دائر کی ، ان کے علاقے میں بچی کو کتے سے کاٹنے سے ہلاکت کا وقوعہ ہوا تھا ، جسٹس حسن نواز مخدوم نے ریمارکس دیے کہ بڑا افسوس ناک حادثہ ہوا تھا ، ایسے واقعات کی روک تھام ہونی چائیے ، بیرسٹر سیدہ معصومہ بخاری نے عدالت کو مزید بتایا کہ اس پالیسی پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ، یہ مونسپل کارپوریشن والے جاتے ہیں ، گولیاں مارتے ہیں ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ لوگ گولیاں مارتے ہیں ؟ درخواست گزار وکیل نے جواب دیا جی جی ، یہ گولیاں مار کر کتوں کو ہلاک کرتے ہیں، حلانکہ ،پالیسی کے تحت ایسا نہیں کرسکتے ،ان کا کام پالیسی پر عمل درآمد ہے، کتوں میں تحویل میں لے کر نس بندی کرسکتے ہیں ، گولیوں کے ذریعے کتے ہلاک نہیں کئے جاسکتے ، جو کتے مارے جاتے ہیں، ان کے باقی ساتھی کتے مزید خطرناک ہو جاتے ہیں ، جسٹس حسن نواز مخدوم نے ریمارکس دیے
بعض کتے ہلکے بھی تو ہوتے ہیں، درخواست گزار وکیل نے کہا ڈی سی کی ویب سائٹ کی ویب پر ظاہر کیا گیا ہے کہ ڈیوٹیاں لگائیں ہیں کہ کتے مارے جارہے ہیں ، عدالت نے خاتون وکیل سے استفسار کیا آپ کیا چاہتی ہیں ؟ بیرسٹر سیدہ معصومہ بخاری نے جواب دیا کہ ڈبلیو ایچ او اور پنجاب حکومت کی پالیسی کے مطابق من و عن عمل درآمد چاہتے ہیں ،حکومتی پالیسی پر من ون عمل درآمد کیا جائے ، پالیسی سے ہٹ کر کوئی کام نہ کیا جائے ، عدالت نے پنجاب حکومت کے لاء افسر سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔