ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

منشیات کیس،عدالت کا  پولیس کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار

 منشیات کیس،عدالت کا  پولیس کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے منشیات کے مقدمہ میں گرفتار خاتون ملزمہ کی درخواستِ ضمانت کیس میں  پولیس کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آر پی او گوجرانوالہ کو چھ اپریل  کو مفصل رپورٹ کے ساتھ دوبارہ طلب کرلیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ  پر مشتمل  دو رکنی بنچ نے ملزمہ مہوش کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ ملزمہ نے 1320 گرام ہیروئن برآمدگی کے مقدمہ میں ضمانت کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔سماعت کے دوران آر پی او گوجرانوالہ خرم شہزاد، ایس پی انویسٹی گیشن گجرات محمد ریاض اور دیگر پولیس افسران ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل وقاص انور کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے آر پی او گوجرانوالہ سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے اس کیس کو دیکھا ہے؟ جس پر آر پی او نے بتایا کہ ملزمہ کی گرفتاری کے وقت اس نے اپنا نام نسرین عرف زینو بتایا تھا، بعد ازاں تحقیقات کے دوران اس کے نام کی درستگی کرلی گئی اور اس کا اصل نام مہوش عابد سامنے آیا۔آر پی او کے مطابق ملزمہ نے جس خاتون کا نام لیا تھا اس کے خلاف بھی متعدد مقدمات درج ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ جس خاتون کا نام لیا گیا ہے وہ تو ایک معروف ملزمہ ہے اور اس کے خلاف بہت سے مقدمات ہیں، اسے تو پولیس والے بخوبی جانتے ہوں گے۔ جسٹس علی ضیاء باجوہ نے آر پی او گوجرانولہ سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یہ بات تو پولیس کے خلاف جاتی ہے۔آر پی او نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کی شناخت شناختی کارڈ کے ذریعے بھی کروائی گئی اور اس کے شناختی کارڈ پر نام مہوش دختر ریاض درج ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملزمہ مختلف نام استعمال کرتی ہے۔عدالت نے ملزمہ کے خاندانی کوائف کے بارے میں استفسار کیا تو آر پی او نے بتایا کہ ملزمہ نے پہلے خاوند سے طلاق لے کر دوسری شادی کی ہے۔ عدالت نے  استفسار  کیا کہ ملزمہ کی ذات کیا ہے اور اس کی شادی کس سے ہوئی؟ اس پر آر پی او نے بتایا کہ ملزمہ کی ذات گوجر ہے اور اس نے مصلی برادری سے تعلق رکھنے والے شخص سے شادی کی ہے۔
عدالت نے اس بیان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے آر پی او سے مزید وضاحت طلب کی تاہم وہ عدالت کو تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔آر پی او نے مزید بتایا کہ شناختی کارڈ میں ملزمہ کا نام مہوش عابد علی درج ہے جبکہ اس نے طلاق کے بعد عبدالرحمان نامی شخص سے دوسری شادی کی لیکن شناختی کارڈ میں نام تبدیل نہیں کروایا۔ ان کے مطابق سانوال ملزمہ کے پہلے خاوند کا نام ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ ملزمہ کو طلاق کب ہوئی اور دوسری شادی کب ہوئی؟ جس پر آر پی او نے بتایا کہ اس حوالے سے ریکارڈ دستیاب نہیں۔ جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ اندراج کے بغیر دوسری شادی کیسے ہوسکتی ہے، کسی نہ کسی نے نکاح تو پڑھایا ہوگا، اس کا ریکارڈ کہاں ہے؟سماعت کے دوران عدالت نے ملزمہ کے بھائی کے خلاف مقدمات کے بارے میں بھی پوچھا جس پر آر پی او نے بتایا کہ اس کے بھائی کے خلاف تین مقدمات ہیں جن میں سے ایک میں اسے سزا بھی ہوچکی ہے۔ آر پی او کے مطابق ملزمہ کے ساس، سسر اور دیور کے خلاف بھی مقدمات درج ہیں۔
عدالت نے اس بات پر بھی برہمی کا اظہار کیا کہ مجسٹریٹ کی جانب سے دیا گیا ملزمہ کا جسمانی ریمانڈ ریکارڈ پر موجود نہیں۔ عدالت نے ایس پی انویسٹی گیشن گجرات سے استفسار کیا کہ جب ریمانڈ ہی ریکارڈ پر موجود نہیں تو تفتیش کس بنیاد پر کی جارہی ہے۔عدالت نے آر پی او گوجرانوالہ خرم شہزاد کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ اور دیگر تفصیلات پر مشتمل مفصل رپورٹ کے ساتھ دوبارہ پیش ہونے کا حکم دے دیا اور سماعت  چھ اپریل تک ملتوی کردی۔

Ansa Awais

Content Writer