ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

رجب بٹ پر تشدد کے بعد وکیل ریاض علی سولنگی کا نیا بیان آگیا

رجب بٹ پر تشدد کے بعد وکیل ریاض علی سولنگی کا نیا بیان آگیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:کراچی سٹی کورٹ میں معروف یوٹیوبر رجب بٹ پر مبینہ تشدد کے واقعے نے نیا رخ اختیار کر لیا، جہاں ایک جانب وکلا کی جانب سے مقدمہ درج نہ ہونے پر شدید احتجاج کیا گیا، وہیں بعد ازاں تشدد میں ملوث وکلا کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی۔

تفصیلات کے مطابق یوٹیوبر رجب بٹ اور وکلا کے خلاف مقدمے کے عدم اندراج پر وکلا سراپا احتجاج بن گئے۔ ریاض علی سولنگی ایڈووکیٹ اور ان کے ساتھیوں نے ایم اے جناح روڈ کو بلاک کر دیا اور سڑک پر بیٹھ کر احتجاج شروع کر دیا۔ مظاہرین نے اعلان کیا کہ جب تک مقدمہ درج نہیں ہوتا احتجاج جاری رہے گا۔ ریاض علی سولنگی کا کہنا تھا کہ پولیس نے راتوں رات رجب بٹ کی جانب سے ایف آئی آر درج کی، اگر ہمارے خلاف مقدمہ درج نہ ہوا تو وہ رات بھر سڑک پر بیٹھے رہیں گے۔

احتجاج کے دوران وکلا برادری نے سٹی کورٹ میں مکمل ہڑتال کا بھی اعلان کیا۔ ایڈووکیٹ عبدالوہاب راجپر کا کہنا تھا کہ ہڑتال کے دوران پولیس، ججز اور سائلین کے داخلے پر مکمل پابندی ہوگی اور جب تک رجب بٹ، ندیم نانی والا، میاں علی اشفاق سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہوتا احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔ وکلا نے ایم اے جناح روڈ مکمل طور پر بند رکھنے کا فیصلہ بھی کیا۔

بعد ازاں پیش رفت سامنے آئی اور یوٹیوبر رجب بٹ پر مبینہ تشدد کرنے والے وکلا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ سٹی کورٹ تھانے میں درج ایف آئی آر میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ کی مدعیت میں درج کی گئی، جس میں ریاض سولنگی، فتح چانڈیو اور دیگر وکلا کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے میں تشدد، جان سے مارنے کی دھمکیاں اور دیگر متعلقہ دفعات شامل کی گئی ہیں۔

پولیس کے مطابق مقدمے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے جبکہ واقعے کے بعد وکلا اور سوشل میڈیا حلقوں میں معاملے پر شدید بحث جاری ہے۔

واضح رہے کہ کراچی میں رجب بٹ کیس کے سلسلے میں وکلاء کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد سٹی کورٹ تھانے کے ایس ایچ او پر مبینہ تشدد کا واقعہ پیش آیا۔ پولیس کے مطابق 30 سے 40 وکلاء نے تھانے میں داخل ہو کر ایس ایچ او کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔پولیس حکام کا کہنا تھا کہ رجب بٹ کیس میں وکلاء کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے پر وکلاء مشتعل ہو گئے تھے، جس کے بعد یہ واقعہ پیش آیا۔ پولیس کے مطابق تشدد کا نشانہ بننے والے ایس ایچ او نے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی مگر وکلاء کی بڑی تعداد کے باعث معاملات بگڑ گئے۔

دوسری جانب وکلاء کا موقف تھا کہ انہوں نے ایس ایچ او سے اپنی جانب سے بھی مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم ایس ایچ او نے مزید مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا، جس پر تلخی پیدا ہوئی۔