وکالت کی ڈگری حاصل کرنیوالے ینگ وکلاء کیلئے ٹریننگ لازمی قرار

وکالت کی ڈگری حاصل کرنیوالے ینگ وکلاء کیلئے ٹریننگ لازمی قرار

(یاور ذوالفقار) پنجاب بار کونسل نے وکالت کی ڈگری حاصل کرنیوالے ینگ وکلاء کیلئے ٹریننگ لازمی قرار دیدی، پہلا تربیتی سیشن دو ستمبر کو ہوگا، سینئر وکلا نے اس ٹریننگ کو خوش آئند قرار دے دیا۔

پنجاب بار کونسل نے وکالت کی ڈگری حاصل کرنیوالے ینگ وکلاء کے لیے ٹریننگ لازمی قرار دیدی ہے، وائس چئیرمین پنجاب بار کونسل اور ایگزیکٹو چئیرمین کی محنت سے ینگ وکلا کے لیے سنٹرل ایکسیلینس کا اعلان کیا گیا ہے۔ ٹریننگ میں حصہ نہ لینے والے ینگ وکلاء کو وکالت کا لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا۔

چئیرمین ایجوکیشن کمیٹی پنجاب بار منیر بھٹی کا کہنا ہےکہ ینگ وکلاء کو سرٹیفکیٹ کیساتھ پانچ ایوارڈ بھی دئیے جائیں گے، اک قائد اعظم اور ایک اقبال ایوارڈ دیا جائے گا۔

پنجاب کو چار ریجن میں تقسیم کیا گیا ہے، ساؤتھ ڈویژن، لاہور ڈویژن، پنڈی ڈویژن اور گوجرانوالہ سرگودھا ڈویژن میں تقسیم کیا ہے۔

سینئر وکلاء کا کہنا ہےکہ اس ٹریننگ سے ینگ وکلاء کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا جبکہ سینئر قانون دان مقبول شیخ کا کہنا ہےکہ ینگ وکلاء کا ووٹ پہلے دو یا چار سال معطل کیا جائے، پروفیشنل ہونے کے بعد ججز اور بار کے صدر کی مشاورت سے بحال کیا جائے۔

ینگ وکلاء کے پہلےتربیتی سیشن میں چیف جسٹس ہائیکورٹ خصوصی شرکت کریں گے جبکہ سیئنرقانون دان بیرسٹر خاور قریشی نوجوان وکلاء کو لیکچر دیں گے۔