ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

دینی مدرسہ کی عمارت دورانِ نماز گرگئی، تین طالبعلم شہید

Madrassah, school building collapsed, city42
کیپشن: مدرسہ کی گری ہوئی عمارت کا ملبہ ہاتھوں سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے، 65 طلبہ ملبہ میں دبے ہوئے ہیں۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:   انڈنیشیا میں ایک دینی مدرسہ کی عمارت  عین نماز کے دوران منہدم ہونے سے کم از کم 3  طالب علم شہید ہو گئے۔ عمارت کے ملبہ تلے دب کر  درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

دینی مدرسہ کی عمارت  گرنے کا  واقعہ انڈونیشیا کے مشرقی جاوا  کے سدورجو شہر میں پیش آیا۔ اس حادثہ کے وقت طلبا و طالبات نماز ادا کر رہے تھے۔ اس اندوہناک واقعہ میں65 ط طالبات اور طلبہ کے ملبہ میں دبے ہونے کا اندیشہ ہے، جنہیں نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں 38 طلبا کے لاپتہ ہونے کی اطلاع بھی دی جا رہی ہے۔

انڈونیشیا کے جزیرہ مشرقی جاوا کے شہر سیدوارجو میں پیر کے روز ایک اسلامی مدرسہ میں تین منزلہ عمارت کی چھت اچانک گر گئی۔   ریسکیو ٹیمیں 12 گھنٹے سے زائد کا وقت گزرنے کے باوجود تاحال ملبے تلے دبے افراد تک آکسیجن اور پانی پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

 برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب ال خوزینی  مدرسہ کی عمارت اچانک گر گئی۔ اس وقت طالب علم  اور طالبات  الگ الگ جگہوں پر نماز ادا کر رہے تھے۔ تمام طالبات اس سانحہ کے دوران محفوظ رہیں۔ جہاں طالبات نماز پڑھ رہی تھیں وہ حصہ گرنے سے محفوظ رہا۔

 پولیس، فوجی اہلکاروں اور امدادی کارکنوں نے پوری رات ملبے میں دبے افراد کو نکالنے کے لیے کھدائی جاری رکھی۔ اس دوران آٹھ زخمیوں کو  اور کچھ طالبعلموں کو زندہ نکالا گیا۔

 ریسکیو ٹیموں کو مزید لاشیں بھی دکھائی دیں، جس سے شہید ہونے والوں کی تعداد  میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مدرسہ کے احاطے میں قائم  ریسیپشن ڈیسک پر  ایک نوٹس بورڈ پر 65 لاپتہ طلباء کے نام درج کیے گئے ہیں، جو منگل کی صبح تک ملبے تلے دبے تصور کیے جا رہے ہیں۔ یہ طلبا زیادہ تر ساتویں سے گیارہویں جماعت کے طلبہ ہیں اور ان کی عمریں 12 سے 17 سال کے درمیان ہیں۔

ریسکیو ٹیم کے سربراہ ناننگ سیگِت نے بتایا ہے کہ ملبہ ہٹانے میں مشکلات کا سامنا ہے ۔  کنکریٹ کی بھاری سلیبیں اور عمارت کے غیر مستحکم حصے امدادی کاموں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ اگرچہ بھاری مشینری دستیاب ہے، لیکن اسے استعمال نہیں کیا جا رہا کیونکہ اس سے ملبہ تلے موجود افراد کےلئے  مزید خطرہ بڑ سکتا ہے۔ہم ملبے تلے دبے افراد تک آکسیجن اور پانی پہنچا رہے ہیں تاکہ وہ زندہ رہیں، اور ہماری پوری کوشش ہے کہ انہیں جلد از جلد نکال لیا جائے گا۔

 مقامی پولیس ترجمان جولس ابراہم آباسٹ نے بتایا کہ عمارت کا وہ حصہ گرا جو آج کل توسیع کے عمل سے گزر رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دو منزلہ پرانی عمارت پر  مزید دو منزلوں کا اضافہ کیا جا رہا تھا.

عمارت کی پرانی بنیادیں دو نئی منزلوں کے بوجھ کو برداشت نہ کر سکیں اور کنکریٹ ڈالنے کے دوران عمارت زمین بوس ہو گئی۔

بچ جانے والے طلباء نے بتایا کہ لڑکیاں عمارت کے دوسرے حصے میں نماز پڑھ رہی تھیں اور محفوظ طریقے سے نکلنے میں کامیاب ہو گئیں۔