سی سی پی او لاہور آئی جی کے خط کا جواب دینے سے کترانے لگے

سی سی پی او لاہور آئی جی کے خط کا جواب دینے سے کترانے لگے

سٹی 42: سی سی پی او لاہور آئی جی کے خط کا جواب دینے سے کترانے لگے، سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے ڈی ایس پیز کے تقرر و تبادلوں کے لیے اختیارات مانگ لیے تاہم آئی جی پنجاب نے 7 دن گزر جانے کے بعد بھی جواب نہ دیا۔

سی سی پی او عمر شیخ نے 20 ستمبر کو آئی جی پنجاب انعام غنی کو خط میں درخواست کی تھی کہ شہر میں روز بروز جرائم بڑھ رہے ہیں، جہاں جرائم کی شرح زیادہ ہو وہاں دبنگ آفیسر تعینات کیے جانے چاہئیں، اس لیے انہیں ڈی ایس پیز کے تبادلوں کا اختیار دیا جائے۔

سی سی پی او نے وضاحت کی کہ پہلے بھی کئی بار ڈی ایس پیز کے تبادلوں کے اختیارات سی سی پی او کے پاس رہے ہیں تاہم آئی جی پنجاب نے 7 روز بعد بھی کوئی جواب نہیں دیا۔

یاد رہے لاہور سیالکوٹ موٹروے پر خاتون سے زیادتی کرنے والے ملزم عابد کو پکڑنا پنجاب پولیس کے لیے 'مشن امپاسبل' بن گیا ہے۔موٹروے پر خاتون سے زیادتی  کے واقعے کو 20 روز ہوچکے ہیں لیکن پولیس ملزم کو اب تک گرفتار نہیں کرسکی ہے۔

خیال رہےکہ 9 ستمبرکو  گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون رات کو تقریباً ڈیڑھ بجے اپنی کار میں اپنے دو بچوں کے ہمراہ لاہور سے گوجرانوالہ جا رہی تھی کہ رنگ روڈ پر گجر پورہ کے نزدیک اس کی کار کا پیٹرول ختم ہوگیا۔

کار کا پٹرول ختم ہونے کے باعث موٹروے پر گاڑی روک کر خاتون شوہر کا انتظار کر رہی تھی، اس دوران اس نے مدد کے لیے موٹروے پولیس کو بھی فون کیا مگر موٹر وے پولیس نے مبینہ طور پر کہا کہ کوئی ایمرجنسی ڈیوٹی پر نہیں ہے اور گجر پورہ کی بِیٹ ابھی کسی کو الاٹ نہیں ہوئی۔ سی سی پی او لاہور  نے ملزموں کو پکڑنے کے بجائے خاتون کو ہی رات کو نکلنے پر قصور وار ٹھہرایا تھا۔جس پر بعد میں ان کو معافی بھی مانگنا پڑی ۔