سٹی42: پشاور میں خیبر پختونخوا کی تاریخ کے سب سے بڑے کرپشن سکینڈل ، میں 40 ارب روپے کے میگا کرپشن کی گئی۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران 2013 سے اب تک، ایک گروہ کی جانب سے کی جانے والی اس مسلسل کرپشن کیس کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے کارروائی کے دوران ماسٹر مائنڈ قیصر اقبال کے گھر سے مزید 20 کروڑ روپے برآمد کر لیے۔ دو الگ الگ کارروائیوں کے دوران 10،10 کروڑ روپے برآمد کیے گئے۔
گزشتہ تلاشی کے دوران قیصر اقبال کے گھر سے ایک ارب 60 کروڑ روپے ملے تھے۔ رقم پینٹ (رنگ) کے ڈبوں میں چھپائی گئی تھی جس کی نشاندہی ملزم کی گرفتار بیوی نے تفتیش کے دوران کی ۔
نیب کے مطابق قیصر اقبال سی اینڈ ڈبلیو ڈپارٹمنٹ اپر کوہستان میں اگست 2013 سے کلرک اور بعد میں ہیڈ کلرک تعینات ر ہا۔ اس دوران اس نے مبینہ طور پر جعلی دستاویزات تیار کر کے سرکاری خزانے سے رقم غیر قانونی طور پر نکالنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس تمام عرصہ کے وران خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت رہی۔
ذرائع کے مطابق اربوں روپے قیصر اقبال کی اہلیہ اور ایک کنٹریکٹر ممتاز کے اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے جبکہ متعدد بااثر شخصیات کو بھی اس کرپشن سے فائدہ پہنچانے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔