ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان اور متحدہ عرب امارات ؛لازوال دوستی کی مثال

اسعد نقوی

پاکستان اور متحدہ عرب امارات ؛لازوال دوستی کی مثال
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

متحدہ عرب امارات اپنا 54واں قومی دن یومِ اتحاد منا رہا ہے۔ یہ ملک ایسی مثال ہے جہاں اتحاد، استحکام اور جدید ریاستی وژن ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات بھی محض دو ممالک کے رسمی سفارتی روابط نہیں بلکہ ان میں باہمی احترام، اعتماد اور برادرانہ اخوت کی مضبوط بنیاد شامل ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں ایسے دیرپا اور ہم آہنگ تعلقات کم دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں روایت اور جدیدیت ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے آگے بڑھتی ہوں۔

دونوں ملکوں کی دوستی وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔ حکومتیں بدلتی رہیں مگر پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات نہ صرف برقرار رہے بلکہ وسعت اختیار کرتے گئے۔ توانائی، زراعت، بندرگاہوں، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں جب بھی پاکستان کو سرمایہ کاری کی ضرورت پڑی امارات نے بھرپور تعاون کیا۔ یہ فیصلے محض کاروباری نہیں تھے بلکہ برسوں پر محیط بااعتماد رشتے کا نتیجہ تھے۔ پاکستان نے بھی ہر عالمی فورم پر ہمیشہ متحدہ عرب امارات کے مفادات اور احترام کو مقدم رکھا۔

دو روز قبل سینیٹ میں ایک بیان کے باعث یہ تاثر پیدا ہوا کہ امارات نے پاکستان کے لیے ویزے بند کر دیے ہیں۔ اصل صورت حال اس کے برعکس ہے۔ متحدہ عرب امارات روزانہ سینکڑوں پاکستانیوں کو ویزے جاری کر رہا ہے۔ امارات کے سفیر نے واضح کیا کہ پاکستان کے لیے نہ کوئی پابندی عائد کی گئی ہے نہ ویزے روکے گئے ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستانی شہریوں کے لیے امارات کے ویزوں میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور ویزے معمول کے مطابق جاری ہو رہے ہیں۔

پاکستان میں روزگار کے مواقع محدود ہیں جس کے باعث نوجوان بڑی تعداد میں بیرونِ ملک کام کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ لاکھوں پاکستانی اس وقت امارات میں محنت اور دیانت کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستانی کمیونٹی نے اماراتی معاشرے میں نہ صرف اپنا مقام بنایا بلکہ ادب، موسیقی، دستکاری، کھانوں اور فنون کے ذریعے اپنی ثقافت کو بھی متعارف کرایا ہے۔ دوسری جانب وہ اماراتی روایات اور تہذیب کا احترام کرتے ہوئے بہترین ہم آہنگی کی مثال پیش کرتے ہیں۔ ثقافتی پروگرام، ادبی میلے اور فنون کے تبادلے دونوں اقوام کو ایک فکری رشتے میں جوڑ رہے ہیں جس کے اثرات آئندہ نسلوں تک منتقل ہوں گے۔

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی دوستی کا مضبوط ستون بانی امارات شیخ زاید بن سلطان آل نہیان ہیں جو پاکستان کو اپنا دوسرا گھر کہا کرتے تھے۔ انہوں نے جنوبی پنجاب اور پاکستان کے دیگر پسماندہ علاقوں میں اسکول، ہسپتال، سڑکیں اور پانی کے اہم منصوبے شروع کیے۔ چولستان میں جانوروں اور جنگلی حیات کے تحفظ کے منصوبے آج بھی ان کی محبت کا ثبوت ہیں۔ لاہور سے رحیم یار خان تک اور سندھ کے مختلف علاقوں میں ان کے نام سے منسوب ادارے آج بھی جگمگا رہے ہیں۔

موجودہ اماراتی قیادت شیخ محمد بن زاید اور شیخ محمد بن راشد کی سربراہی میں اس روایت کو مزید وسعت ملی ہے۔ ان کے دورے، پاکستانی قیادت سے براہ راست روابط اور اقتصادی تعاون نے اعتماد اور شراکت داری کو نئے مواقع فراہم کیے ہیں۔ امارات کی فلاحی تنظیمیں بھی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر ہوبارہ فاؤنڈیشن چولستان میں جنگلی حیات، پودوں اور ماحول کے تحفظ کے بڑے منصوبے چلا رہی ہے۔ فضا کے ذریعے بیج بکھیر کر صحرا میں نئی آبیاری کی جا رہی ہے اور جانوروں کے لیے پانی کے منصوبے جاری ہیں تاکہ وہ سخت موسم میں محفوظ رہ سکیں۔ تلور، ہرن اور نیل گائے جیسے جانوروں کے تحفظ اور افزائش کے لیے قائم ریسرچ سینٹر پاکستانی طلبہ کو تربیت اور تحقیق کے مواقع بھی فراہم کر رہے ہیں۔

اس طرح کی فاؤنڈیشنز پاکستان اور امارات کے درمیان ایک مثبت سفارتی پل کا کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ نہ صرف ماحول اور فلاحی شعبوں میں کام کر رہی ہیں بلکہ نوجوانوں کے لیے روزگار اور عملی تربیت کے نئے راستے بھی کھول رہی ہیں۔

پاکستان متحدہ عرب امارات کے 54ویں یومِ اتحاد پر نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہے۔ دونوں ممالک کی یہ دوستی نہ صرف خطے میں استحکام کا ذریعہ ہے بلکہ آنے والے دور میں ترقی، تعاون اور خوش حالی کے لیے نئی راہیں بھی قائم کرے گی۔