ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ممبر ان لینڈ رونیو محمد محسن ورک  کا لاہور ٹیکس بار میں اہم خطاب ، وکلاء کو کیس جیتنے کے گر بھی بتا دئیے 

ممبر ان لینڈ رونیو محمد محسن ورک  کا لاہور ٹیکس بار میں اہم خطاب ، وکلاء کو کیس جیتنے کے گر بھی بتا دئیے 
سورس: City42
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : ممبر ان لینڈ ریونیو محمد محسن ورک  نے لاہور ٹیکس بار  کی ود ہولڈنگ ٹیکس کے متعلق  آگاہی لیکچر کی ایک  خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپیلیٹ ٹربیونل میں کیسز دائر کرنے اور ان کی پیروی کے متعلق  کھل کر اظہار خیال کیا،  ممبر ان لینڈ ریونیو محمد محسن ورک نے  کہا کہ اگر کوئی دستاویزات گم ہو جاتی ہیں  پھر بعد میں جب آرڈر خلاف آ جاتا ہے تو پھر کیس بحالی کیلئے دلیل دی جاتی ہے کہ ایف بی آر میں متعلقہ دستاویزات لف کر دی تھیں مگر دستاویزات جمع  کرانے کی کوئی رسید پیش نہیں کی جاتی۔ ایف بی آر سے دستاویزات وصولی کی رسید لینے کا ایک ہی طریقہ ہےکہ وہاں ریکارڈ آف فائل کر دیا جائے پھر محکمے کی ذمہ داری ہے کہ وہ دستاویزات کو سنبھال کر رکھے۔ 

https://www.city42.tv/digital_images/large/2025-05-30/news-1748605867-2897.jpeg
ممبر ان لینڈ ریونیو محمد محسن ورک نے مزید کہا کہ ٹیکس کیسز میں وکلاء بہتریں تیاری کیساتھ پیش ہوتے ہیں مگر ایک ہی فیصلے میں موجود 6 عدالتی حوالے الگ الگ کر کے پیش کئے جاتے ہیں جبکہ وکلاء کو ان تمام حوالہ جات کو ایک کتابچے کی شکل دینا چاہئے اور جج کو فیصلے کا متعلقہ پیرا ہائی لائٹ کر کے دیا جائے، اس کے علاوہ کسی حوالہ جات کتابچے کی شروع میں کیسز کی فہرست بنائی جائے اور صفحات پر نمبر بھی لکھے جائیں۔
وکلاء کتابچے میں حوالہ جات کے خلاصے تحریر کریں اور عدالت کو آگاہ کر دیا جائے کہ یہ آپ کے تحریری دلائل بھی ہیں۔ اگر فیصلہ خلاف آ جاتا ہے تو بھی وکلاء اسی کتابچے کی مدد سے اگلے فورم میں اپنے دلائل اور کیس باآسانی تیار کر سکتے ہیں بلکہ اس بات کی نشاندہی بھی کر سکتے ہیں کہ فلاں نکتے کو نظر انداز کر کے فیصلے حق میں نہیں کیا گیا جس سے وکلاء بآسانی اپنا موقف بنچ کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔

ممبر ان لینڈ ریونیو محمد محسن ورک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات وکلاء عدالت میں یہ کہہ کر مشکل سے دوچار ہو جاتے ہیں کہ انکا کلائنٹ پاکستان کا رہائشی نہیں ہے یا وہ بیرون ملک سے رقم بھیجتا ہے۔ جس پر وکلاء سے یہ مختار خاص کی تاریخ اور پاسپورٹ نمبر اور تاریخ پوچھی جاتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اس وقت انکا کلائنٹ پاکستان میں موجود تھا۔ انہوں نے وکلاء کو مشورہ دیا کہ جیسی کیس اور فائل کی تیاری ہائیکورٹ میں پیش ہونے کیلئے کی جاتی ہے ویسے ہی ان لینڈ ریونیو میں پیش ہونے کیلئے کی جائے۔

Ansa Awais

Content Writer