ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 ایٹمی پروگرام بند ورنہ بمباری، ٹرمپ کی ایران کو وارننگ

Iran USA Conflict, Donald Trump, Abbas Iraqchi, Iran's nuclear program, B2 Bombars, Diego Garcia base
کیپشن: File Photo
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو  وارننگ دی ہے کہ اگر  ایران نے جوہری ہتھیار بنانے کا سلسلہ جاری رکھا تو اس پر بمباری کی جائے گی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس وارننگ سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی ہے کہ امریکہ نے ڈیگو گارشیا کے بیس پر اپنے بی-2 بمبار ایران کے خلاف کسی ممکنہ ایکشن کے لئے پہنچائے ہیں۔ 

گزشتہ روز  ہی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان دیا تھا جس میں کسی وسطہ کے ذریعہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کرنے پر رضا مندی ظاہر کی تھی تاہم انہوں نے  ڈونلڈ ٹرمپ کے خط کے جواب میں ایرانی کے مذہبی پیشوا خامنہ ای کے اس  بیان کو بھی دہرایا تھا کہ ایران دباؤ مین امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔ عباس عراقچی کے اس بیان کے بعد اب صدر ٹرمپ کا یہ واضح بیان سامنے آیا ہے جس مین انہوں نے ایٹمی پروگرام آگے بڑھانے کی صورت مین  براہ راست بمباری کی وارننگ دی ہے۔

بمباری  کا لفظ آتے ہی ڈیگو گارشیا میں کھڑے امریکہ کے بی ٹو بمبار ذہنوں میں آتے ہیں جو  زیر زمین تنصیبات کو تباہ کرنے کی سپیشلٹی کے حامل ہیں۔

صدر  ٹرمپ نے ہفتے کی رات ایک انٹرویو میں کہا کہ ’اگر وہ معاہدہ نہیں کرتے تو بمباری ہوگی‘۔ 

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید دباؤ ڈالنے کے لیے ’ثانوی اقتصادی پابندیاں‘ لگانے کی بھی دھمکی دی۔

گزشتہ دنوں امریکی صدر کی جانب سے ایران کو خبردار کیا گیا تھا کہ  اگر ایران جوہری معاہدہ کرنے میں ناکام رہا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے  ایران کو ایک خط بھیجا جس میں کہا کہ آپ کو فیصلہ کرنا ہوگا، یا تو ہمیں بیٹھ کر بات کرنی ہوگی یا پھر بہت برا ہوگا۔

ایران کا امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار
دوسری جانب ایران نے مذاکرات سے متعلق امریکی صدر کے خط کا جواب دیتے ہوئے امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کردیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق ایرانی صدر نے امریکی صدر کے خط کے جواب میں امریکا سے براہ راست مذاکرات کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔

ایرانی صدر مسعود  پزشکیان کا کہنا ہے کہ امریکا سے بالواسطہ مذاکرات کا راستہ ہمیشہ سےکُھلا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر نے مارچ کے آغاز میں انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے جوہری معاہدے پر مذاکرات کے لیے ایرانی قیادت کو ایک خط بھیجا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران سے دو طرح سے نمٹا جاسکتا ہے، ایک راستہ تو عسکری ہے اور دوسرا یہ کہ معاہدہ کیا جائے، میں معاہدہ کرنا چاہوں گا کیونکہ میں ایران کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا، وہ بہت اچھے لوگ ہیں۔

جمعرات کے روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سرکاری نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ایران نے عمان کے ذریعے ٹرمپ کے خط کے جواب میں ایک خط بھیجا ہے جس میں موجودہ صورتحال اور ٹرمپ کے خط کے حوالے سے ایرانی نقطہ نظر کو واضح کیا گیا ہے۔