ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے ریاستی اداروں اور عہدیداروں کیخلاف نامناسب زبان استعمال کرنے کے کیس میں سوشل ایکٹوسٹ صنم جاوید کی ضمانت منظور کرلی ،عدالت نے پانچ ، پانچ لاکھ کے دو مچلکوں کے عوض ملزمہ کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت منظور کی۔
جسٹس فاروق حیدر نے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ صنم جاوید کی درخواست ضمانت پر سماعت کی ،ایف آئی اے کا تفتیشی افسر ، اسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض ، اسٹنٹ آٹارنی جنرل کے ہمراہ پیش ہوا، ملزمہ صنم جاوید کے وکیل نے عدالتی حکم پر ایف آئی آر کا متن پڑھ کر سنایا ،، جسٹس فاروق حیدر نے استفسار کیا کہ کیا یہ ابتدائی یا فائنل حتمی ٹیکنکل رپورٹ ہے، ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ یہ ابتدائی ٹیکنیکل رپورٹ ہے، عدالت نے تفتیش افسر سے ابتدائی ٹیکنیکل رپورٹ کے کر اس کا جائزہ لیا اور استفسار کیا ملزمہ کب گرفتار ہوئی ،، تفتیشی افسر نے جواب دیا ملزمہ دس مئی کو گرفتار ، چودہ مئی دوہزار پچیس کو جوڈیشل ہوئی ، جسٹس فاروق حیدر نے تفتیشی افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا ملزمہ سے کوئی موبائل وغیرہ کی ریکوری ہوئی ، تفتیشی افسر نے جواب دیا ملزمہ سے کوئی برآمدگی نہیں ہوئی ، عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ایکس اکاؤنٹ والوں کو کوئی خط لکھا ، تفتیشی افسر نے جواب دیا ایکس اکاؤنٹ والوں کو چھبیس مئی دوہزار پچیس کو ان کو لیٹر لکھا ، یہ اکاؤنٹ ملزمہ کے نام پر ہے، فاضل جج نے استفسار کیا کہ کیا ملزمہ کا دفعہ 164 کا بیان قلمبند ہوا ہے،، اسٹنٹ آٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نہیں سر ،،، فاضل جج نے پوچھا آپ نے یہاں وفاقی یا صوبائی سطح پر پنجاب فرانزک انجنسی اتھارٹی سے اس کا فرانزنک کروایا؟ ،کیا اس میں فائنل ٹیکنکل رپورٹ آئی ہے، اسٹنٹ آٹارنی جنرل نے جواب دیا جی نہیں سر ، جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دئیے خود ہی مقدمہ درج کرکے ایف آئی اے نے ابتدائی ٹیکنیکل رپورٹ بنا لی ، کسی خود مختار انجنسی سے اس کا فرازنک بھی نہیں کروایا ،کسی خاتون کو بغیر کسی جواز کے کیسے جیل میں رکھا جاسکتا ہے،عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ملزمہ کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت منظور کرلی۔