بارش نے تمام محکموں کی کارکردگی کا پول کھول دیا

بارش نے تمام محکموں کی کارکردگی کا پول کھول دیا


(سٹی42) شہر میں  بارش نے تمام محکموں کی کارکردگی کا پول کھول دیا، مختلف علاقے زیرآب آگئے، سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں، ٹریفک روانگی بھی شدید متاثر رہی،لکشمی چوک ڈسپوزل سٹیشن کا والو پھٹ گیا، نکاسی آب میں مشکلا ت کا سامنا، دیواریں گرنے اور کرنٹ لگنے سے 2 شہری جاں بحق، درجنوں زخمی ہوگئے۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:نیوز بلیٹن 3 بجے 16 نومبر 2018  

تفصیلات کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش سے جہاں موسم خوشگوار ہوگیا وہیں چند گھنٹوں کی بارش نے لاہور کی سڑکوں کو تالاب میں بدل دیا، والٹن روڈ، گلبرگ، ڈیوٹی فری شاپ، سمن آباد، ریلوے اسٹیشن سمیت مختلف علاقے زیرآب آگئے، نکاسی آب کیلئے انتظامیہ کی جانب سے بھی کوئی حکمت عملی سامنے نہ آئی۔ شریف خاندان کے آبائی حلقہ این اے  125میں کروڑوں روپے کے ریکار ڈ ترقیاتی منصوبے مکمل ہونے کے باوجود بھی کرشن نگر، نیلی بار چوک، ساندہ ، راج گڑھ اوردیگر علاقے پانی میں ڈوبے رہے، واسا اہلکار بھی نکاسی آب میں ناکام رہے۔

اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ حلقے میں سٹرکیں بنا دی گئیں لیکن نکاس آب پر توجہ نہیں دی گئی۔ ڈسپوزل اسٹیشن پر تکنیکی خرابی کے باعث لکشمی چوک پر پندرہ انچ پانی جمع ہوگیا جس کو نکالنے کیلئے واسا حکام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ نگران وزیر ہاﺅسنگ سعید اللہ بابر نے لکشمی ڈسپوزل اسٹیشن کا دورہ کیا ایم ڈی واسا سید زاہد عزیز نے صوبائی وزیر کو فنی خرابی پر بریفنگ دی۔

ادھر گورنمنٹ ایمپلائز سوسائٹی گرین ٹاﺅن میں جامع مسجد توحید کی دیوار گرنے سے 9 افراد زخمی ہوگئے جن کو اتفاق ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ نماز جمعہ کا خطبہ جاری تھا کہ اچانک سائیڈ پلر نمازیوں پر گر گیا ۔پولیس کے مطابق شاہدرہ کے علاقے حاجی کوٹ میں زمین پر بچھائی جانے والی بجلی کی تارو ں سے کرنٹ لگنے سے 20 سالہ فیصل جاں بحق ہوگیا۔

اہل علاقہ کے مطابق متعدد بار واپڈ حکام کو بجلی کی تاریں اٹھانے کی درخواست کی تاحال شنوائی نہیں ہوئی جس کے باعث حادثہ پیش آیا۔ رائے ونڈ میں پندرہ سالہ عمر بجلی کے کھمبے سے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوا جبکہ ریلوے اسٹیشن کے قریب کرنٹ لگنے سے 13 سالہ فہد زخمی ہوگیا ۔

خبر پڑھیں۔۔۔۔نیب نے شہباز شریف کو ایک اور کیس میں طلب کرلیا

ادھر بارش نے لیسکو کا ترسیلی نظام شدید متاثر کر دیا جس سے 157فیڈرز ٹرپ کرگئے اور شالیمارٹاون، ہربنس پورہ، مغل پورہ، داروغہ والا، بٹ چوک، دھرم پورہ، سمن آباد کی ٹھٹھی سمیت شہر کے بیشتر مقامات گھنٹوں بجلی منقطع رہی۔لیسکو نے بارش کے دوران کرنٹ لگنے کے واقعات سے بچنے کیلئے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ صارفین بارش کے دوران برقی تنصیبات کے قریب جانے سے گریز کریں۔

چیف ایگزیکٹو لیسکو مجاہد پرویز چٹھہ نے عملے کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ لیسکو کا عملہ صارفین کی شکایات کے فوری ازالے کو ہر صورت یقینی بنائے۔ شہری بجلی کی تاروں، کھمبوں، ٹرانسفارمرکے نیچے کھڑے ہونے، چھونے، سامان رکھنے اور ان پر کپڑے پھیلانے سے گریز کریں۔ بجلی کے کھمبوں اور تاروں کے ساتھ مویشیوں کو نہ باندھیں۔بجلی کی ہائی ولٹیج تاروں،ٹرانسفارمر کے نیچے غیر قانونی تعمیرات، سٹال یا ٹھیلہ نہ لگایا جائے۔

خبر ضرور پڑھیں۔۔۔۔بھارتی فلم سنجو لاہور کے سینما گھروں کی زینت بن گئی

دریں اثناءمحکمہ موسمیات کے مطابق پری مون سون کا سلسلہ لاہورمیں داخل ہو گیا جس سے مزید پانچ سے چھ دن بارش کا امکان ہے جبکہ ان دنوں میں درجہ حرارت کم سے کم 24 اور زیادہ سے زیادہ 35 ڈگری سینٹی گریڈ رہے گا۔لیسکو کا نظام بھی شدید متاثر ہوا جس سے 157 فیڈرز ٹرپ کر گئے اور گھنٹوں بجلی بند رہی۔ لیسکو نے ہائی الرٹ جار ی کر دیا۔ پری مون سون کا سلسلہ لاہور میں داخل ہونے سے مزید 5سے 6 روز بارش کا امکان ہے۔