ویب ڈیسک: سعودی عرب کی وزارت دفاع نے بحیرہ احمر، باب المندب آبنائے اور خلیج عدن میں سمندری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے 14 ممالک پر مشتمل مشترکہ بحری سکیورٹی اتحاد قائم کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
اتحاد میں پاکستان، ترکی، مصر، سوڈان اور جبوتی سمیت دیگر ممالک کی شمولیت تجویز کی گئی ہے یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک روز قبل سعودی عرب نے امریکا کے ساتھ مل کر عراق میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی میں حصہ لیا تھا۔
غیر ملکی خبر رساں رپورٹس کے مطابق امریکا اور سعودی عرب کی مشترکہ کارروائی میں عراقی مسلح اتحاد حشد الشعبی کے کم از کم 20 ارکان مارے گئے تھے۔ اس کے بعد عراقی حکومت نے اپنے ملک کی خودمختاری کے دفاع اور اپنی سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
دوسری جانب امریکا نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ تعلق رکھنے والے اداروں اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے بھتہ وصول کرنے کے الزامات میں مزید پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے بعد ایران کو سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی مفادات کو نشانہ بنایا گیا تو امریکا بھرپور جواب دے گا۔