سٹی42: پاکستان میں اگست کا مہینہ غیر معمولی نوعیت کے جشن آزادی کا مہینہ ہو گا لیکن اگست کا مہینہ انڈیا میں نریندر مودی حکومت کے لئے مصیبت کے ساتھ شروع ہو گا اور اس اگست کے دوران بھارت کی معیشت کو شدید نوعیت کی مصیبت کا سامنا رہے گا کیونکہ امریکہ سے خبر ہی ایسی آئی ہے جس نے انڈیا میں بہت سے لوگوں کو چار سو چالیس وولٹ بجلی کا جھٹکا لگا دیا ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ انڈیا پر 25 فیصد امپورٹ ٹیرف لگائے گا اور اس کے ساتھ اضافی جرمانہ بھی عائد کرے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان سے انڈیا میں نریندر مودی کی حکومت کو سخت جھٹکا لگنے کا امکان ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس اعلان سے اس تاثر کو بھی جھٹکا لگا ہے کہ انڈیا امریکہ کا کوئی "سٹریٹیجک اتحادی" ٹائپ کا رشتہ دار ہوا کرتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈیا پر پچیس فیصد ٹیرف عائد کرنے اور اضافی جرمانہ بھی عائد کرنے کی جو وجہ بتائی ہے، اس وجہ کو انڈیا کی حکومت راتوں رات دور نہیں کر سکتی، اگر اس نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو اسے ملٹی پل نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چونکہ بھارت روس سے اسلحہ اور توانائی خریدتا ہے، اس لئے وہ بھارت پر 25 فیصد ٹیرف اور اضافی جرمانہ عائد کریں گے۔
واشنگٹن میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس پر 25 فیصد ٹیرف اور اضافی جرمانہ عائد کرنے کا اعلان کردیا تو اس سے نئی دہلی میں نریندر مودی کی حکومت کو شدید نوعیت کا جھٹکا لگا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ بھارت امریکہ کا اچھا دوست ہے لیکن ہم نے اس کے ساتھ بہت کم کاروبار کیا ہے کیونکہ بھارت کے ٹیرف بہت زیادہ ہیں اور اس کی طرف سے عائد کردہ غیر مالیاتی تجارتی رکاوٹیں سخت ترین اور ناقابلِ قبول ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ بھارت اپنا زیادہ تر اسلحہ روس سے خریدتا ہے اور اس وقت چین کے ساتھ بھارت بھی روسی توانائی کا سب سے بڑا خریدار ہے، یہ سب ایسے وقت میں ہورہا ہے جب دنیا چاہتی ہے کہ روس یوکرین میں خونریزی بند کرے۔
اگست کا مہینہ پاکستان میں جشن، انڈیا میں مصیبت اور سوگ کا مہینہ بن گیا
پرسوں آغاز ہونے والا اگست پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے جشنِ آذادی کا مہینہ بننے جا رہا ہے۔ چھ مئی سے دس مئی تک انڈیا کے ساتھ جنگ میں پاکستان کو تاریخ بدل دینے والی فتح ملنے کے بعد پاکستان کا یہ پہلا یوم آزادی آ رہا ہے۔ پاکستان کے پاس سلیبریٹ کرنے کی اس وجہ کے ساتھ کئی دوسری وجہیں بھی ہیں جن میں معیشت کی بحالی سے لے کر ، فتنہ الہندوستان کی کمر توڈ دینے اور امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات کے نئے باب کے آغاز تک کئی اہم کامیابیاں شامل ہیں۔ اس کے برعکس اگست کا مہینہ انڈیا میں تشویش، مصیبت اور سوگ لا رہا ہے۔ انڈیا کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں کل منگل کے روز سے پاکستان سے دس مئی کو کھائی شکست کے واقعہ پر بحث ہو رہی ہے جس میں نریندر مودی کی حکومت اور ساری بھارتیہ جنتا پارٹی کو سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس کے ساتھ اب یہ ہوا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ یکم اگست سے انڈیا کی امپورٹس پر 25 فیصد ٹیرف نافذ کر رہے ہیں، اس کے ساتھ اضافی جرمانے بھی؛ یہ اقدام انڈیا کی معیشت کو سخت جھٹکا لگائے گا، انڈیا کی امریکہ کے لئے امپورٹس میں کمی ہو گی اور انڈین مینوفیکچررز کو تشویشناک صورتحال کا سامنا رہے گا۔

صدر ٹرمپ نے آج ہی یہ اعلان کیا ہے کہ یکم اگست سے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد ہوگا اور اضافی پینلٹی بھی عائد کی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ہی دن پہلے بھارت پر 25 فیصد ٹیکس لگانے کا انکشاف کیا تھا، آج انہوں نے ٹیرف کے دو دن بعد نفاذ کی بجلی بھی گرا دی ۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ بھارت نے اگر تجارتی معاہدہ نہ کیا تو اسے 25 فیصد ٹیرف دینا پڑے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ بھارت ایک اچھا دوست رہا ہے، لیکن اس نے بنیادی طور پر تقریباً تمام ممالک سے زیادہ ٹیرف امریکہ سے وصول کیے۔