ویب ڈیسک:عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد اضافہ ہو گیا.
برینٹ خام تیل 72 ڈالر فی بیرل کی سطح پر فروخت ہوا جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 69 ڈالر سے زائد میں فروخت ہوا۔
دوسری جانب گیس کی عالمی قیمت 3 فیصد اضافے سے3 ڈالر 8 سینٹس کی سطح پر موجود ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھاری کمی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس فیصلہ کا اعلان پرسوں جولائی کی 31 تاریخ کو کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں ذمہ دار ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یکم اگست سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی جا رہی ہے جبکہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمت بڑھائے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق پرسوں 31 جولائی کے آخری گھنٹوں میں پیٹرول 9 روپے 7 پیسے فی لیٹر سستا ہونے کا امکان ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 3 روپے 73 پیسے فی لیٹر سستا کیا جاسکتا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اطلاق کیلینڈر پر یکم اگست کا اغاز ہوتے ہی ہو جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ یکم اگست سے مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے 55 پیسے اور لائٹ ڈیزلکی قیمت میں2 روپے 33 پیسے فی لیٹر اضافہ ہونےکا ہونے کا امکان ہے۔
اوگرا کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی سمری 31 جولائی کو ورکنگ پیٹرولیم ڈویژن کو بھیجی جائے گی۔
ہر مہینے دو مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظر ثانی کی جاتی ہے۔ طے شدہ طریقہ کار کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کی حتمی منظوری دیتے ہیں جس کے بعد نئی قیمتوں کا نوٹیفیکیشن ہوتا ہے۔ پرسوں بھی وزیراعظم شہباز شریف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کی حتمی منطوری دیں گے۔
گزشتہ مرتبہ پندرہ جولائی کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔ پٹرول کی قیمت میں تقریباً ساڑھے پانچ روپے فی لٹر اضافہ ہوا تھا۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 36 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے 37 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔ اس اضافہ مین ٹیکس میں کیا جانے والا مستقل نوعیت کا اضافہ بھی شامل تھا۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد اضافہ ہوا ہے کیا اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے؟۔