اسٹیٹ بینک نے تیسری سہ ماہی رپورٹ جاری کردی

اسٹیٹ بینک نے تیسری سہ ماہی رپورٹ جاری کردی

(سٹی 42) کورونا وائرس کےباعث ملکی معیشت دباؤ میں آئی، تاہم میں زراعت کا شعبہ متاثر نہیں ہوا،موسمی حالات اور ٹدی دل کے باعث کچھ فیصلوں کی پیداوار کم ہوئی، اسٹیٹ بینک نے رپورٹ جاری کردی۔ 

اسٹیٹ بینک نے گزشتہ مالی سال تیسری سہ ماہی کی معاشی سورتحال کے بارے میں جائزہ رپورٹ جاری کر دی، رپورٹ کے مطابق حکومتی اقدامات کی وجہ سے جولائی تا فروری معاشی بہتری کو فروغ ملا تھا  لیکن کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد دنیا کے دیگر علاقوں کی طرح پاکستان میں بھی اقتصادی شعبے نمایاں طور پر دباؤ میں آگئے۔

کووڈ 19 کے کے باعث 68سالوں میں پہلی بار معاشی شرح نمو منفی زون میں چلی گئی،تاہم کورونا کے باعث طلب میں کمی سے مہنگائی میں کمی ہوئی۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ زراعت کا شعبہ کورونا سے متاثر نہیں ہوا اور اہم فصلوں کی پیداوار بہتر رہی ۔ تاہم موسی حالات اور ٹڈی دل کے باعث کچھ زرعی اہداف حاصل نہیں ہوئے، مرکزی بینک کے مطابق بروقت حکومتی اقدامات کے باعث کاروبار کو سہارا دینے کےلیے اقدامات کیئے گئے جن کے مثبت اثرات سامنے آئے، لاک ڈاؤن نے حکومتی آمدنی کو بری طرح متاثر کیا جبکہ معاشی سرگرمیوں میں سست روی اور بے روزگاری میں اضافے سے حکومتی اخراجات بڑھ گئے۔