ویب ڈیسک:پاکستانی آل راؤنڈر عماد وسیم کی جانب سے اہلیہ ثانیہ اشفاق سے طلاق کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آنے والی مبینہ گرل فرینڈ نائلہ راجا کا مؤقف سامنے آ گیا ہے۔ ڈیجیٹل کریئیٹر اور وکیل نائلہ راجا نے جاری بیان میں کہا ہے کہ ان سے منسوب الزامات بے بنیاد ہیں اور اگر کسی کے پاس شواہد موجود ہیں تو وہ انہیں سوشل میڈیا کے بجائے متعلقہ قانونی فورمز پر پیش کرے۔
نائلہ راجا کا کہنا تھا کہ بدنامی کا اطلاق صرف جھوٹے اور نقصان دہ دعوؤں پر ہوتا ہے، جبکہ حقائق پر مبنی شواہد پیش کرنے سے کسی کو نہیں روکا جا سکتا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ الزام تراشی کے بجائے قانونی راستہ اختیار کیا جائے۔
یاد رہے کہ جولائی 2025 میں نائلہ راجا اور عماد وسیم کی ایک ساتھ موجودگی کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئیں، جس کے بعد دونوں کے درمیان تعلقات سے متعلق قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔ طلاق کے اعلان کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا اور نائلہ راجا کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
نائلہ ذوالفقار راجا ایک معروف وکیل، ڈیجیٹل کریئیٹر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ہیں، جن کے انسٹاگرام پر 6 لاکھ 60 ہزار سے زائد فالوورز ہیں۔ وہ لائف اسٹائل اور بیوٹی سے متعلق مواد کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں اور حالیہ تنازعے کے بعد ان کی شہرت میں مزید اضافہ ہوا۔
نائلہ راجا نے انسٹاگرام اسٹوری میں وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ایک ویڈیو کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان سے متعلق بے بنیاد قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، جن سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
دوسری جانب عماد وسیم نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اور ثانیہ اشفاق طویل عرصے سے اختلافات کا شکار تھے اور تمام کوششوں کے باوجود معاملات حل نہ ہو سکے، جس کے بعد طلاق کے لیے قانونی کارروائی شروع کی گئی۔
ثانیہ اشفاق نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کا گھر ٹوٹ چکا ہے اور بچے اپنے والد کی توجہ سے محروم ہو گئے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تیسری شخصیت کی مداخلت کے بعد حالات مزید خراب ہوئے اور وہ اس معاملے پر قانونی راستہ اختیار کریں گی۔
واضح رہے کہ عماد وسیم اور ثانیہ اشفاق کی شادی اگست 2019 میں ہوئی تھی اور ان کے تین بچے ہیں۔