سٹی42: عدالت نے تیرہ کروڑ روپے مالیت کی ڈکیتی کے مقدمہ میں دو معروف ٹک ٹاکرز کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی، دو کی ضمانت کی درخواست منطور کر کے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں ڈکیتی کے الزام میں گرفتار 2 ٹک ٹاکرز کی درخواست ضمانت منظور جبکہ 2 کی مسترد کردی گئی۔
پی ای سی ایچ ایس میں ٹک ٹاکرز کیخلاف 13 کروڑ روپے ڈکیتی کے کیس میں عدالت نے 4 ملزمان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنادیا۔
عدالت نے آج ملزمان شہروز اور نمرا کی ضمانت منظور کرلی، دونوں ملزمان کو فی کس ایک لاکھ روپے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے ملزم شہریار اور ملزمہ یسریٰ کی درخواست ضمانت مسترد کردی، ملزمان کیخلاف 26 جون کو شو روم مالک کے گھر میں گھس کر ڈکیتی کرنے کے الزام میں تھانہ فیروز آباد میں مقدمہ درج ہے۔
چار مشہور ٹک ٹاکرز کی 13 کروڑ روپے مالیت کی ڈکیتی میں گرفتاری کا ڈرامائی معاملہ یکم جولائی کو سامنے آیا تھا۔ پولیس تحقیقات کے مطابق یہ ڈرامائی معاملہ جرائم کو مشہور شخصیت کے ساتھ ملا دیتا ہے۔ کراچی پولیس نے 130 ملین روپے کی مسلح ڈکیتی میں یکم جولائی کو چار مشہور ٹک ٹاکرز کو حراست میں لے لیا۔ ان لوگوں نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے کے اہلکاروں کے بھیس میں واردات کی تھی۔
ڈکیتی کی واردات جون 2025 کے آخری ہفتے پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 کے علاقے میں ہوئی، جہاں ڈاکو کالے رنگ کی گاڑی میں آئے اور محمد سالک کو اپنے گھر کے پورچ میں گاڑی کھڑی کرتے ہوئے پکڑ لیا۔ دو مسلح مردوں اور تین برقعہ پوش خواتین نے اسے بندوق کی نوک پر اپنے ہی گھر میں زبردستی قابو کر لیا۔
ایک چونکا دینے والا موڑ تب آیا جب ایک مرد مشتبہ شخص نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (FIA) سے مشابہہ جعلی وردی پہن رکھی تھی، جس پر ایجنسی کا نشان ک نمایاں تھا۔ انہوں نے اپنی واردات کے آغاز مین گھر والوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے واردات کو قانون نافذ کرنے والے ادارہ کے آپریشن کا رنگ دیا تھا۔ سادہ لوح شہریوں کیلئے ایک چالاک اقدام تھا۔
تحقیقات کے دوران، پولیس نے کہا کہ 13 کروڑ روپے نقد، کئی آئی فون، ڈیکتی مین لوٹی گئی 20 لگژری گھڑیاں، کچھ برانڈڈ پرفیوم، ایک سمارٹ واچ، دو لیپ ٹاپ اور دیگر قیمتی سامان ان ملزموں سے برآمد کیا۔