ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

انتہائی افسوسناک قتل،30 سالہ امام مسجدکو مارنے کے بعد چلتی ٹرین سے پھینک دیا

انتہائی افسوسناک قتل،30 سالہ امام مسجدکو مارنے کے بعد چلتی ٹرین سے پھینک دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بھارت میں ایک نہایت افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، ریاست بہار کے 30 سالہ امام مسجدمولانا توصیف رضا مظہری کو مبینہ طور پر مار پیٹ کے بعد بریلی کے قریب چلتی ٹرین سے پھینک دیا گیا۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ یہ قتل منصوبہ بندی کے تحت ہوا  ہے ، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی جماعت نے حکومت سےانصاف اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر بریلی کے قریب ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں بہار کے 30 سالہ امام کو مبینہ طور پر مار پیٹ کے بعد چلتی ٹرین سے پھینک دیا گیا، جس کے نتیجے میں انکی موت واقع ہوگئی۔متوفی کی شناخت مولانا توصیف رضا مظہری کے طور پر ہوئی ہے، جو بہار کے ضلع کشن گنج کے بکھوٹولی گاؤں کے رہائشی تھے۔مولانا توصیف رضا مظہری پیشے کے اعتبار سے ایک امام اور مدرسہ کے استاد تھے اور وہ بہار کے سیوان میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ بریلی میں تاج الشریعہ کے عرس میں شرکت کیلئے گئے تھے اور واپسی کے دوران یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ریلوے حکام نے ابتدائی طور پر اس واقعے کو حادثہ قرار دیا، تاہم اہلخانہ نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ایک منصوبہ بند قتل قرار دیا ہے۔مولانا کی اہلیہ تبسم خاتون کے مطابق، انہوں نے اس پوری واردات کو ویڈیو کال کے ذریعے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ 26 اپریل کی رات انکے شوہر نے انہیں فون کیا اور وہ شدید خوفزدہ لگ رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ لوگ انہیں مار رہے ہیں۔تبسم خاتون کے مطابق، مولانا بار بار اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے 
’’میں چور نہیں ہوں، میں مدرسہ میں پڑھاتا ہوں‘‘۔انہوں نے اپنے بیگ اور کتابیں بھی دکھائیں، مگر کسی نے ان کی بات نہیں سنی۔انہوں نے مزید بتایا ’’میں نے ویڈیو کال پر دیکھا کہ وہ لوگ انہیں گریبان سے پکڑ کر گھسیٹ رہے تھے، تھپڑ مار رہے تھے اور بے رحمی سے پیٹ رہے تھے۔ یہ منظر انتہائی خوفناک تھا‘‘۔

تبسم خاتون کے مطابق ان کے شوہر کو کچھ نشے میں دھت افراد نے پکڑا تھا، جو انہیں گالیاں دے رہے تھے اور مسلسل تشدد کر رہے تھے۔ مولانا بار بار اپنی بیوی سے پولیس کو فون کرنے کی درخواست کر رہے تھے۔اہلیہ نے شبہ ظاہر کیا کہ ان کے شوہر کی داڑھی اور ٹوپی ان پر حملے کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا :’’ممکن ہے کہ ان کے حلیے کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا گیا ہو‘‘۔اہل خانہ کے مطابق، مولانا کی لاش پر شدید تشدد کے نشانات موجود تھے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ محض حادثہ نہیں تھا۔ تبسم خاتون نے کہا ’’اگر وہ چلتی ٹرین سے گرے ہوتے تو جسم بری طرح ٹوٹ پھوٹ جاتا، لیکن ان کا جسم زیادہ تر صحیح تھا اور مار پیٹ کے نشانات واضح تھے‘‘۔

واقعے کے بعد جب تبسم خاتون نے اپنے شوہر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو کوئی جواب نہیں ملا۔ اگلے دن ایک پولیس افسر نے فون اٹھایا اور اطلاع دی کہ ان کا موبائل اور سامان ریلوے ٹریک کے قریب ملا ہے۔ ابتدا میں انہیں بتایا گیا کہ حالت نازک ہے، مگر بعد میں موت کی تصدیق کر دی گئی۔مولانا کے چچا نے دعویٰ کیا کہ حملہ آوروں نے پہلے ان پر تشدد کیا اور پھر انہیں چور قرار دے کر دیگر مسافروں کو ان کے خلاف بھڑکایا۔ ان کا کہنا تھا ’’یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ لگتا ہے، تاکہ لوگوں کو ان کے خلاف کیا جائے اور حملہ آسان ہو جائے‘‘۔

 اہل خانہ نے اگرچہ ابھی تک باضابطہ پولیس شکایت درج نہیں کروائی، تاہم انہوں نے قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقامی لوگوں اور سماجی حلقوں نے بھی اس واقعے کی غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے اتر پردیش حکومت اور ریلوے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں سخت کارروائی کی جائے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

دوسری جان آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر آواز ریکارڈنگ شیئر کی اور امید ظاہر کی کہ ریلوے حکام اس معاملے میں فوری اور سخت کارروائی کریں گے۔