(ویب ڈیسک) روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نےایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو حل کرنے کے لیے واشنگٹن کو بڑا آفر دے دی۔ گزشتہ روز فون پر بات چیت کے دوران پیوٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا کہ ہم 440 کلو گرام افزودہ یورینیم رکھ لیتے ہیں، جس سے جوہری ہتھیار کا معاملہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق برطانوی اخبار ’دی ڈیلی میل‘ نے بات چیت کے اس حصہ کا انکشاف کرتے ہوئے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ روسی صدر کا کہنا تھا کہ 440 کلو گرام افزودہ یورینیم کو روس کو منتقل کر دیا جائے۔ ایران بھی اس پر راضی ہو جائے گا۔ حالانکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس آفر کو سرے سے خارج کر دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ افزودہ یورینیم امریکہ منتقل کرنا ہی واحد حل ہے۔بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق ایران کے پاس اس وقت 60 فیصد تک افزودہ شدہ 440 کلو گرام یورینیم موجود ہے۔ ایران اسے 90 فیصد تک افزودہ کرنا چاہتا ہے۔ اس کے بعد ایران 11 جوہری ہتھیار آسانی سے بنا سکتا ہے۔
پیوٹن نے ٹرمپ کو یہ پیشکش ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے بعد دی ہے۔ واضح رہے کہ اسی ہفتے عراقچی نے پوتن سے ملاقات کی تھی۔ غیر مصدقہ طور ایسا مانا جا رہا ہے کہ ایران روس کو افزودہ یورینیم سونپنے کے لیے راضی ہے۔ حالانک آفیشیل طور پر ایران نے اس کے متعلق کچھ نہیں کہا ہے۔
واضح رہے کہ ایران کو روس کا اتحادی ملک مانا جاتا ہے۔ روس پر ایران کو جوہری پروگرام کے لیے مالی معاونت کا بھی الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ ایران اور روس اہم دفاعی شراکت دار بھی ہے۔ کریملن کے مطابق پیوٹن نے ایران پر پھر سے حملے کرنےپر ٹرمپ کو وارننگ دی۔ پیوٹن کا کہنا تھا کہ اس سے جنگ کا دائرہ مزید بڑھ جائے گا۔ پیوٹن نے بات چیت ذریعہ تنازعہ کو حل کرنے کی اپیل کی، جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نےمیڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پیوٹن سے یوکرین جنگ کو ختم کرنے کے لیے کہا ہے۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مطابق جلد ہی پیوٹن جنگ بندی کا اعلان کر سکتے ہیں۔ حالانکہ یہ جنگ بندی کچھ ہی دنوں کے لیے ہونے والی ہے۔ دراصل روس 9 مئی کو وکٹری ڈے پریڈ نکال رہا ہے۔ اس روز اس کی کوشش جنگ بندی کرانے کی ہے۔