سٹی42: نیپال کی عبوری حکومت نے اچانک پھوٹ پڑنے والے تشدد کی وجہ سے استعفیٰ دینے والے نیپال کے سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی اور دوسرے کئی سیاستدانوں کے پاسپورٹ منسوخ کر دیئے اور ان کے کھٹمنڈو چھوڑنے پر پابندی بھی لگا دی۔
عبوری ھکومت کے بنائے ہوئے عدالتی کمیشن کا خیال ہے کہ سخت نگرانی اور پاسپورٹ کی معطلی سے ’جین-زی فائرنگ معاملہ‘ کی تحقیقات میں بیرونی دباؤ یا فرار کی کوشش کو روکا جا سکے گا۔
نیپال میں نام نہاد ’جین-زی‘ تشدد کے دوران نوجوان مظاہرین پر ہوئی فائرنگ کی تحقیقات کے لیے تشکیل کردہ عدالتی کمیشن نے سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی اور سابق حکومت کی دیگر 5 شخصیات کو بلا اجازت دارالھکومت کھٹمنڈو چھوڑنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ حکم سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس گوری بہادر کارکی کی صدارت میں تشکیل کردہ کمیشن نے جاری کیا ہے۔ ساتھ ہی کے پی شرما اولی سمیت کئی لیڈران کے پاسپورٹ بھی معطل کرنے کی ہدایات دے دی گئی ہیں۔
عدالتی کمیشن کے حکم کے مطابق جن 5 لوگوں کو بلا اجازت کھٹمنڈو چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے، ان میں سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی، سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک، اس وقت کے داخلہ سیکرٹری گوکرنا منی دواڈی، اندرونی انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہُت راج تھاپا اور کھٹمنڈو کے اس وقت کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ چھوی رجال شامل ہیں۔ ان تمام پر کمیشن نے نگرانی رکھنے اور اجازت کے بغیر کھٹمنڈو سے باہر نہ جانے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی کمیشن نے نیپال پولیس، مسلح پولیس فورس اور قومی تحقیقاتی محکمہ کو ان شخصیات کی سرگرمیوں کی روزانہ رپورٹنگ کرنے کا بھی حکم دیا۔ کمیشن نے کہا کہ یہ قدم ’جین-زی‘ تشدد کے واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ کمیشن نے سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی اور سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک سمیت پانچوں افراد کے پاسپورٹ معطل کر دیے ہیں، ساتھ ہی کئی کے پاسپورٹ منسوخ بھی کر دیے گئے ہیں۔سابق وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا اور سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر آرزو دیوبا کو حال ہی میں جاری کیے گئے نئے پاسپورٹ کو بھی منسوخ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر ذرائع کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق دیوبا اور ان کی بیگم کو 19 ستمبر کو قومی تعطیل کے روز اسپتال آنے کے بعد نئے پاسپورٹ جاری کیے گئے تھے، جنہیں اب کمیشن نے منسوخ کر دیا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے تک یہ پابندی برقرار رہے گی اور کسی بھی شخص کو بغیر اجازت بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
قابل ذکر ہے کہ نیپال میں ’جین-زی‘ تحریک کے دوران ہوئے تشدد میں کئی اموات ہو گئی تھیں اور کئی زخمی ہو گئے تھے۔ اس تشددنے ملک میں سیاسی حکومت کا دھڑن تختہ کر دیا تھا۔