ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارتِ،’لیوان ریلیشن شپ‘ مقدمات میں2 متضاد عدالتی فیصلے،نئی بحث چھڑ گئی

بھارتِ،’لیوان ریلیشن شپ‘ مقدمات میں2 متضاد عدالتی فیصلے،نئی بحث چھڑ گئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بھارت کی الہ آباد ہائی کورٹ  کے ’’ لیو ان ریلیشن شپ‘‘ (بغیر شادی کے تعلقات) سے متعلق 2 مختلف فیصلوں سے سوال پیدا ہوگیا ہے کہ قانون اوراخلاقیات کے درمیان حد کہاں طے ہوتی ہے۔ یہ مسئلہ صرف ایک رشتے کا نہیں بلکہ شخصی آزادی، ازدواجی حقوق اور سماجی منظوریوں کے درمیان ٹکراؤ کا ہے۔
 بھارت کے ایک اردو اخبار کی رپورٹ کے مطابق شادی شدہ مردوں کے درمیان ’’ لیو ان ریلیشن شپ‘‘ کے بارے میں الہ آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلوں نے قانونی اور سماجی بحث کو نئی سمت دے دی ہے۔محض کچھ دنوں کے اندر جاری ہونے والے دو مختلف فیصلوں نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ قانون اور اخلاقیات کے درمیان حد آخرکہاں طے ہوتی ہے۔ یہ مسئلہ صرف ایک رشتے کا نہیں بلکہ شخصی آزادی، ازدواجی حقوق اور سماجی منظوریوں کے درمیان ٹکراؤ کا بن گیا ہے۔ چنانچہ دونوں فیصلوں نے مختلف تشریحات پیش کیں جو اب بحث کا موضوع بن چکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق الہ آباد ہائی کورٹ   کی سنگل بنچ نے20  مارچ کو سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی شادی شدہ شخص بغیر طلاق کے تیسرے شخص کے ساتھ لیو ان ریلیشن شپ میں نہیں رہ سکتا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ شخصی آزادی لامحدود نہیں ہوتی ہے بلکہ دوسرے کے حقوق کی پابند ہوتی ہے۔ عدالتی بنچ نے کہا کہ شوہر یا بیوی کو اپنے شریک حیات کے ساتھ رہنے کا قانونی حق ہے۔ ایسی صورت حال میں اگر کوئی شخص اس حق کو نظر انداز کر کے ’’ لیو ان ریلیشن شپ‘‘ میں رہتا ہے تو یہ دوسرے فریق کے حقوق کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور عدالت ایسے رشتے کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتی۔الہ آباد ہائی کورٹ نے لِو-ان ریلیشن میں یعنی بغیر شادی کے ایک ساتھ رہ رہے ایک مسلم خاتون اور ہندو مرد کی طرف سے پیش کردہ حفاظت کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ خاتون کی قانونی شادی ختم نہیں ہوئی ہے اور طلاق کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے۔بنچ نے مشاہدہ کیا کہ اس قسم کے غیر قانونی تعلقات کو یہ عدالت تحفظ فراہم نہیں کر سکتی۔ نیز شریعت کے مطابق قانونی طور پر شادی شدہ مسلمان عورت کسی دوسرے مرد یا ہندو مرد کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ عدالت نے کہا کہ ' لیو ان ریلیشن شپ' میں رہنا شریعت کے مطابق زنا اور حرام ہے۔ اس کے ساتھ عدالت نے درخواست گزاروں پر 2000 روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔
 عدالت کے اس فیصلے کے محض 5 دن بعد25 مارچ کو ڈویژن بنچ نے ایک الگ معاملے میں بالکل مختلف نقطہ نظر پیش کیا۔ جسٹس جے جے منیر اور جسٹس ترون سکسینہ کی بنچ نے کہا اگر کوئی شادی شدہ مرد کسی بالغ عورت کے ساتھ اسکی رضامندی سے ’’ لیو ان ریلیشن شپ‘‘ میں رہ رہا ہے تو اسے قانون کے تحت جرم نہیں مانا جا سکتا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ معاشرے کے اخلاقی تاثرات اور ذاتی رائے عدالت کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ جب کسی فعل کو قانون کے ذریعے مجرم قرار نہیں دیا جاتا، تب تک صرف اخلاقی بنیاد پر کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
اس معاملے میں خاتون نے پولیس کو دی گئی اپنی درخواست میں کہا وہ اپنی مرضی سے ’’ لیو ان ریلیشن شپ‘‘ میں رہ رہی تھی لیکن اسے اپنے خاندان کی جانب سے جان کو خطرات لاحق تھے۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے شکتی واہنی بمقابلہ یونین آف انڈیا فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس کو دونوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ دو بالغ افراد کی زندگی اور آزادی کی حفاظت کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ان متضاد فیصلوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ’’ لیو ان ریلیشن شپ‘‘ جیسے حساس معاملات پر قانون کے اندر بھی مختلف آراء موجود ہیں اور مستقبل میں اس موضوع پر مزید واضح رہنما اصولوں کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔