ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف دینے میں ناکام

ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف دینے میں ناکام

حسن علی : لاہور شہر میں چینی کی قلت برقرار،ضلعی انتظامیہ کےمقررکردہ نرخوں پرچینی کی فروخت یکسر نظر اندازجبکہ یوٹیلٹی سٹورز پربھی چینی اور آٹےکی فراہمی ممکن نہ ہو سکی۔

شہر میں چینی کی قیمت کا مسئلہ  حل ہوسکا اورنہ قلت دورہوسکی،اوپن مارکیٹ میں چینی70 روپے کی بجائے80سے 85 روپےفی کلو میں ہی فروخت ہوتی رہی جبکہ یوٹیلٹی سٹورزپرچینی اور آٹےکی قلت بدستور برقرار رہی،شہریوں کا کہنا ہےکہ حکومت نےچینی کی قیمت 70فی کلو روپےمقرر تو کر دی لیکن اس پرعمل درآمد کرانا بھول گئی،یوٹیلٹی سٹورزپر بھی 2 ہفتوں سےچینی کی قلت کا سامنا ہےجوکہ حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

دوسری طرف دکانداروں کا کہنا ہےکہ انہیں اکبری منڈی سےچینی 75 سے76 روپے فی کلو میں مل رہی ہےتو وہ70میں کیسے بیچ سکتےہیں؟؟ضلعی انتظامیہ کو قیمت مقرر کرنے سے پہلے چینی فروخت کرنےوالوں سے مشاورت کرنی چاہی تاکہ ایسی قیمت مقرر ہوسکےجوسب کے لیےقابل قبول ہو۔

یوٹیلٹی سٹورز پر چینی اورآٹےکی قلت کےحوالےسےانتظامیہ کا کہنا ہےکہ کارپوریشن نےچینی کےنئےٹینڈرز ابھی تک نہیں کھولے،جس کے باعث ویئرہاؤس میں چینی موجود نہیں،اسکےساتھ ساتھ گندم کی بڑھتی ہوئی قیمت کےباعث فلورملزنےسستےآٹے کی فراہمی بھی بند کردی ہے۔

واضح رہے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اپنی بیشتر تقریروں میں عوام کو ریلیف دینے اور ذخیرہ اندروزوں کی بیخ کنی کی بات کرتے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ شوگر انکوائری سکینڈل کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد چینی سستی کرنے  کا حکم دیا گیا تھا ،عوام کو ایک دن بھی سستی چینی نہیں مل سکی،سستی چینی  ملنے کے بجائے با زار سے غائب کردی گئی ۔بازار میں چینی 80 سے 90 روپے میں مل رہی ہے۔