ویب ڈیسک: بھارتی سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ وہ طلبہ جن کا پس منظر مجرمانہ نہ ہو اور جو نابالغ ہوں، ان کیخلاف مظاہرے میں حصہ لینے پر کوئی بھی جابرانہ کارروائی نہ کی جائے اور انہیں رہا کر دیا جائے،تاہم اس عدالتی فیصلے کی وجہ سےخدشہ ہے کہ جنتر منتر کے دھرنا میں شامل ہونیوالے بیشتر مظاہرین کو جیل بھیج دیا جائیگا۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے پر گرفتار یا حراست میں لئے گئے ان تمام طلبہ کو منگل کو رہا کرنے کا حکم دیا جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے اور جو نابالغ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے مرکزی حکومت اور آسام، بہار، مغربی بنگال، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر نیز کیرالا حکومتوں سے جواب طلب کیا ہے۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ ملک گیر طلبہ کے مظاہروں کے دوران طلبہ اور پولیس اہلکاروں کو آئی چوٹوں کے الزامات کی منصفانہ اور آزادانہ تحقیقات ضروری ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں عبوری ہدایات کا ایک سلسلہ جاری کرتے ہوئے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ اپنے ایک سابق جج کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے سکتی ہے۔
بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل تین رکنی بنچ پولیس جارحیت کے الزامات والی درخواستوں کیساتھ زخمی پولیس اہلکاروں اور میڈیاکی طرف سے دائر درخواستوں پر سماعت کر رہی تھی۔ عدالت نے مظاہرین کی ذاتی معلومات اور ڈیجیٹل ڈیٹا کو محفوظ رکھنے نیز ایسی معلومات کو فی الحال عام نہ کرنے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ ہی حکم دیا ہے کہ بغیر کسی مجرمانہ پس منظر والے طلبہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں حصہ لینے پر کوئی بھی تادیبی یا جابرانہ کارروائی نہ کی جائے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ان واقعات سے جڑے تمام سی سی ٹی وی اور ڈرون فوٹیج، کیمرہ ریکارڈنگ، وائرلیس ریکارڈ اور پی سی آر لاگ کو محفوظ رکھنے کی ہدایت دی ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App