پاکستان ریلوے کی نئی ڈیجیٹلائزڈ بزنس ٹرین کی پانچ خصوصیات ریلوے کے نئے دور کے اہم خدوخال کی محض ایک ابتدائی جھلک ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے آج لاہور میں نئی ٹرین کا افتتاح کردیا ہے۔ بظاہر یہ ایک نئی ٹرین سروس کا آغاز ہے لیکن درحقیقت یہ پاکستان کے قدیم ترین پبلک سروس ادارہ پاکستان ریلوے کے ایک نئے دور کا آغاز ہے جو کچھ ہی عرصہ میں ریلوے کے قومی ادارہ کو تیز ترین سفر کی نئی سہولتوں سے بھر دے گا۔
پاکستان ریلویز نےایک جدید ترین بزنس ٹرین سروس کی نقاب کشائی کر دی ہے جو ملک کے ریل کو جدید بنانے کے منصوبوں میں ایک بڑی چھلانگ کا نشان ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے آج لاہور میں ٹرین کا افتتاح کر دیا۔ نئی ٹرین مصروف ترین لاہور-کراچی کوریڈور میں روزانہ ہزاروں مسافروں کو سروس فراہم کرے گی۔ یہ نئی ٹرین کاروباری اور پریمیم مسافروں کے لیے ریل کے سفر کا نیا اور جدید ترین تجربہ فراہم کرنے کا وعدہ کرتی ہے۔
ریلوے کی بہتری کا خواب اور تعبیر
وزیراعظم شہبازشریف نے ٹرین کے افتتاح کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مدت بعد لاہور ریلوے اسٹیشن آنے کا موقع ملا اور بہت خوشی ہوئی، لاہور ریلوے اسٹیشن پر خوشگوار تبدیلی دیکھنے کو ملی، صرف اشرافیہ نہیں،عام آدمی کیلئے شاندار سفری سہولیات فراہم کی گئیں ہیں ، سعد رفیق نے 16 مہینے کی پی ڈی ایم حکومت میں ریلوے کو چلانے کی کوشش کی۔
پرائم منسٹر شہباز نے پاکستان ریلوے کے نئے دور کے آغاز پر روشنی ڈٓلتے ہوئے کہا، ریلوے دنیا میں پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے اپنا مقام رکھتا ہے، ٹکٹ کا پرانا نظام ختم کر کے ڈیجیٹائز سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، میں نے ریلوے کو ٹھیک کرنے کی ذمہ داری حنیف عباسی کو سونپی، ریلوے کی بہتری کیلئے میرا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر آ رہا ہے۔
شہبازشریف نے پاکستان کے نئے دور کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا، " ہم نے بھارت سے جنگ جیتی، 4دن کی پاک بھارت جنگ انتہائی خطرناک تھی، پاکستان نے جنگ جیتی،پوری دنیا اس کی معترف ہے، پوری قوم اپنی افواج کیلئے دعائیں کرتی تھی، الفتح میزائلوں کا بھرپور استعمال کیا گیا، جنگ کے دوران میرا لمحہ بہ لمحہ فیلڈ مارشل سے رابطہ تھا، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دوبارہ عزت دی ہے۔"
پرائم منسٹر شہباز نے کہا کہ معاشی میدان میں یہ سفر بہت لمبا ہے، میکرو اکنامک انڈیکیترز میں ہمیں کامیابی ملی ہے، مہنگائی کی شرح 5 فیصد سے کم ہو گئی ہے، سی پیک کے دوسرے مرحلے کیلئے چین سے بات چیت جاری ہے۔
نئی بزنس ٹرین کی خصوصیات
ٹرین 28 جدید کوچز سے آراستہ ہے، جس میں مسافروں کے لئے سہولت اور طویل سفر کے دوران آرام کو بڑھانے کے لیے مکمل طور پر ڈیجیٹائزڈ نظام موجود ہیں—بکنگ سے لے کر آن بورڈ کنٹرولز اور ریئل ٹائم اپ ڈیٹس تک۔
2. تیز ترین وائی فائی
2. اس ٹرین میں تمام مسافروں کیلئے مفت تیز رفتار وائی فائی فراہم کی گئی ہے۔
پورے سفر میں مسافر مفت تیز رفتار وائی فائی کے ساتھ چلتے پھرتے جڑے رہیں گے۔ کاروباری مسافروں اور ڈیجیٹل خانہ بدوشوں کے لیے یہ سہولت یکساں گیم چینجر ہے۔
3. بین الاقوامی معیاری ڈائننگ کار
مسافر جہاز میں عالمی معیار کے کھانے کے تجربے سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، ایک نئی بین الاقوامی معیاری ڈائننگ کار کے ساتھ جو معیاری کھانے اور پریمیم سروس پیش کرتی ہے۔
4. ڈیجیٹل ٹکٹنگ
ریل میں اصلاحات کے ایک وسیع تر حصے کے طور پر، پاکستان ریلویز ڈیجیٹل ٹکٹنگ کے نظام کو شروع کر رہا ہے اور ملک بھر کے ٹرین سٹیشنوں پر سہولیات کو بہتر بنا رہا ہے تاکہ ایک ہموار، زیادہ موثر سفری تجربہ پیش کیا جا سکے۔ اس نئی ترین میں ڈیجیٹل ٹکٹنگ کا سٹیٹ آف دی آرٹ نظام متعارف کروایا گیا ہے جس سے مسافروں کو ماضی کی بہت سی قباحتوں سے نجات مل گئی ہے۔
5. پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ
نئی بزنس ٹرین کی ابتدا کا یہ اقدام پبلک پرائیویٹ تعاون کی طرف وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جس میں ریل سروس کے کچھ حصے بشمول بریک اور لگیج وین آپریشنز پہلے ہی آؤٹ سورس سروسز کے ذریعے اربوں کی آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔
پاکستان بلٹ ٹرین: بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے فوائد، چیلنجز اور نقل و حرکت
اس بزنس ٹرین کا آغاز ایک بڑے وژن کا صرف ایک ٹکڑا ہے، جس میں مجوزہ لاہور-راولپنڈی بلٹ ٹرین منصوبہ شامل ہے جس کا مقصد دونوں شہروں کے درمیان سفر کے وقت کو پانچ گھنٹے سے 2.5 گھنٹے تک کم کرنا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے آج لاہور سٹیشن پر نئی بزنس ٹرین کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں بتایا کہ یہ بزنس ٹرین پاکستان ریلوے مین نئے دور کا آغاز ہے۔ بہت جلد پاکستان کے عوام کو تیز ترین بلٹ ٹرین بھی مہیا ہو گی۔ پہلی بلٹ ٹرین لاہور سے راولپنڈی تک چلے گی جو پانچ گھنٹے کے سفر کو صرف ڈھائی گھنٹے تک سمیٹ کر ملک کے وفاقی دارلحکومت اور ثقافتی دارالھکومت کو عملاً جرواں شہروں میں ڈھال دے گی۔ ،