ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نکاح نامہ میں بھی ترمیم کرنے کی ہدایت ;تعلیمی اداروں میں لڑکی کو ازدواجی حقوق سے متعلق تعلیم دی جائے؛ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ قانون سازی کے اقدامات میں خواتین کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے

 نکاح نامہ میں بھی ترمیم کرنے کی ہدایت ;تعلیمی اداروں میں لڑکی کو ازدواجی حقوق سے متعلق تعلیم دی جائے؛ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: اسلام آباد ہائیکورٹ میں شوہر سے علحیدگی کے بعد جہیز کے سامان کی واپسی سے متعلق دائر درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ آگیا ۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے  فیملی کورٹ کو دو ماہ میں کیس کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا ۔ عدالت کی خواتین کے مالی حقوق کے تحفظ اور موثر نفاذ کے لیے قانون سازی کی ہدایت کی ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے 28 صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلے میں اسلامی قوانین اور قرآنی آیات کا حوالہ بھی دیا۔

اپیلٹ کورٹ نے درخواست گزار بیوی کے حقوق سے انکار کر کے غلطی کی،شادی کے دوران حاصل جائیداد میں بیوی کا حق تسلیم کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ اس کی شراکت داری ثابت ہو، جہیز اور دلہن کے ذاتی تحائف مکمل طور پر خاتون کی ملکیت ہے، جہیز کا سامان واپس نہ ہونے کی صورت میں خاتوں متبادل قیمت حاصل کر سکتی ہے ۔

خواتین کے آئینی اور قانونی تحفظات کو مناسب قانون سازی اور پالیسی اقدامات سے آگے بڑھانا چاہیے،حکومت قانون سازی کے ذریعے خواتین کے  ملکیتی حقوق کا واضح طور پر اعلان اور تحفظ کرے،حکومت قانون سازی کرے جس سے گھریلو خواتین کو بھی شادی کے دوران حاصل ہونے والے اثاثوں میں متناسب حصہ دیا جا سکے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ قانون سازی کے اقدامات میں خواتین کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے۔

خواتین ملک کی تقریباً نصف آبادی پر مشتمل ہیں اور ملک کے مستقبل کے ایک اہم حصے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ خواتین کے حقوق کا تحفظ اور موثر نفاذ معاشرے کی ترقی اور انصاف میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نکاح نامہ میں بھی ترمیم کرنے کی ہدایت کر دی

نکاح نامہ میں ترمیم کر کے شوہر کی ملکیتی جائیداد بیوی کے ساتھ مساوی طور پر تقسیم کرنے کی شرط عائد کی جائے۔یہ شرط بغیر کسی قانون سازی کے متبادل راستے کے طور پر پاکستان میں بیوی کے جائیداد کے حقوق کی حفاظت کرے گی۔سکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر ہر لڑکی کو ان کے ازدواجی حقوق سے متعلق تعلیم دی جائے ۔ازدواجی حقوق کے متعلق تعلیم دینے سے خواتین نکاح نامہ کے کالم نمبر 18 میں اپنے حقوق کا حوالہ دے سکے گی ۔