قیصرکھوکھر: وزیر قانون کی زیر صدارت انسداد دہشت گردی وہارڈنڈ دی اسٹیٹ کمیٹی کا اہم اجلاس، سیکرٹری داخلہ نور الامین مینگل نے اجلاس کو امن و امان کی صورتحال بارے بریفنگ دی، ایڈیشنل آئی جی پنجاب چوہدری سلطان، سی ٹی ڈی، سیف سٹی کے افسران، ایس پی یو، ایکسائز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا، صوبائی وزیر کو صوبے میں قیام امن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، سی ٹی ڈی پنجاب نے صوبہ کے بارڈر ایریا اضلاع کی سکیورٹی پر بریفنگ دی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ سال 25-2024میں 454 مقدمات کا اندراج کیا، 488ملزمان کو چالان، 226 کو سزائیں دلوائی گئیں، پنجاب بھر میں 15776 کومبنگ آپریشنز کیے گئے،دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے پر 3 مقدمات و ملزمان کو سزائیں دلوائی گئیں۔

اجلاس کو چینی باشندوں کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی، سرویلنس کیلئےسیف سٹی 15 اضلاع میں کیمروں کی تنصیب مکمل کر چکی، فیز ٹو میں 19 اضلاع میں کیمروں کی تنصیب رواں سال دسمبر تک مکمل ہو گی۔
صوبائی وزیر قانون ملک صہیب احمد بھرتھ کا کہنا تھا کہ قیام امن کیلئے بین الصوبائی چیک پوسٹوں کی تعمیر پر کام جاری ہے، 31فی صد تعمیراتی کام کو مکمل کر لیا گیا ۔
قانون نافذ کرنیوالے اداروں کوجدید اسلحہ و ٹیکنالوجی سے لیس کر رہے ہیں،صوبہ پنجاب میں امن و امان کے قیام کیلئے متحرک ہیں۔
پٹرول کی غیر قانونی فروخت روکنے کیلئے جامع پالیسی بنائی جائے،وزیراعلیٰ صوبہ میں قیام امن کیلئے دن رات کام کر رہی ہیں۔